FBR کو ایک ہزار ارب روپے سے زائد کا شارٹ فال
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2025-26 کے لیے نظرثانی کے بعد مقرر کردہ 12 ہزار 957 ارب روپے کا ٹیکس وصولی ہدف حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2025-26 کے لیے نظرثانی کے بعد مقرر کردہ 12 ہزار 957 ارب روپے کا ٹیکس وصولی ہدف حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے
ملکی معیشت کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، اوسط مہنگائی سنگل ڈیجٹ پر آگئی جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ بھی سرپلس میں تبدیل ہوگیا۔
حکومتِ پاکستان نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کی نجکاری کے عمل میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے پہلی فنانشل کلوزنگ کامیابی سے مکمل کر لی
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں توانائی، دفاع، انفراسٹرکچر، آئی ٹی، سکیورٹی اور ترقیاتی شعبوں کے لیے متعدد ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس (TSGs) اور اہم پالیسی اقدامات کی منظوری دے دی گئی۔
قومی اسمبلی نے فنانس بل 2026-27 کثرت رائے سے منظور کر لیا جبکہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تمام ترامیم مسترد کر دی گئیں۔
پاکستان بیورو شماریات (PBS) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 18 جون 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اشاریے (SPI) کی بنیاد پر ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں 0.46 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت ہونے والے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں مختلف ترقیاتی منصوبوں، پاسپورٹ سروسز اور سیکیورٹی امور کے لیے 9.5 ارب روپے سے زائد کی تکنیکی ضمنی گرانٹس (TSGs) کی منظوری دے دی گئی، جبکہ دو بڑے یوریا ساز کارخانوں کو گیس فراہمی جاری رکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پارلیمنٹ سے 3 کھرب 68 ارب 40 کروڑ روپے کے ریکارڈ اضافی اور ضمنی اخراجات کی بعد از خرچ منظوری طلب کر لی ہے، جس نے حکومتی مالی نظم و ضبط اور کفایت شعاری کے دعوؤں پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
پنجاب حکومت آج (منگل) مالی سال 2026-27 کا بجٹ پنجاب اسمبلی میں پیش کرے گی، جس کا مجموعی حجم 5 کھرب روپے سے زائد رہنے کا امکان ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن بجٹ تجاویز ایوان میں منظوری کے لیے پیش کریں گے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کا اہم اجلاس آج منعقد ہوگا جس میں ملک کی پالیسی شرح سود کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ اجلاس کی صدارت گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کریں گے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 2026-27 کا 18.8 کھرب روپے حجم کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا، جس کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج کیا اور ایوان میں نعرے بازی کی۔
پاکستان بیورو شماریات (PBS) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 11 جون 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اشاریے (SPI) کی بنیاد پر ہفتہ وار مہنگائی میں 0.16 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
حکومت آئندہ مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ کل پارلیمنٹ میں پیش کرے گی، جس کا مجموعی حجم تقریباً 17 ہزار 500 ارب روپے رہنے کا امکان ہے۔
پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق ملکی معیشت نے جاری مالی سال میں 3.7 فیصد شرح نمو حاصل کی، جو گزشتہ سال کے 3.18 فیصد کے مقابلے میں بہتر رہی، تاہم حکومت کے مقرر کردہ 4.2 فیصد ہدف سے کم رہی۔
حکومت رواں مالی سال 2025-26 کا قومی اقتصادی سروے کل جاری کرے گی، جس میں ملکی معیشت کی مجموعی کارکردگی، ترقیاتی اہداف اور اہم معاشی اشاریوں کا جائزہ پیش کیا جائے گا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف آج قومی اقتصادی کونسل (NEC) کے اجلاس کی صدارت کریں گے، جس میں آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے قومی ترقیاتی پروگرام، معاشی اہداف اور مجموعی اقتصادی فریم ورک کی منظوری دی جائے گی، جبکہ وفاقی بجٹ جمعہ کے روز پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ 10 جون کو پیش نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جبکہ نئی تاریخ کا باضابطہ اعلان آج وزارتِ خزانہ کی جانب سے متوقع ہے۔
قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس پھر مؤخر کر دیا گیا، اجلاس آج نہیں ہوگا۔ یہ اجلاس اب کل بدھ 10 جون کو صبح ساڑھے 11 بجے ہوگا۔
وفاقی بجٹ کے معاملات پر حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان اہم مشاورت آج ہونے کا امکان ہے، جس میں مالیاتی امور اور وسائل کی تقسیم پر غور کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں مختلف شعبوں کے لیے مجموعی طور پر 50 ارب روپے سے زائد کے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس (TSGs) اور پالیسی فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
وفاقی حکومت نے چھوٹے دکانداروں کیلئے فکس ٹیکس اسکیم متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد ٹیکس نظام کو آسان اور شفاف بنانا ہے۔
پاکستان بیورو شماریات (پی بی ایس) کی جانب سے جاری کردہ حساس قیمت اشاریہ (ایس پی آئی) کی تازہ رپورٹ کے مطابق 4 جون 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں 0.56 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی
مالی سال 2025-26 کے ابتدائی گیارہ ماہ (جولائی تا مئی) کے دوران ملک کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 34.76 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، کیونکہ درآمدات میں اضافے اور برآمدات میں کمی کے باعث تجارتی توازن مزید دباؤ کا شکار رہا۔
بین الاقوامی منڈی میں ایران جنگ کے باعث خام تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے