آئی ایم ایف-پاکستان کے مذاکرات بغیر معاہدہ ختم
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے ساتھ اپنے دوہری جائزہ مشن کو اسٹاف لیول معاہدے (SLA) کے بغیر مکمل کر لیا ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے ساتھ اپنے دوہری جائزہ مشن کو اسٹاف لیول معاہدے (SLA) کے بغیر مکمل کر لیا ہے۔
پاکستان میں ٹیکس وصولیوں میں کمی پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے تشویش ظاہر کر دی ہے، اور اگر رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں بھی رجحان برقرار رہا تو حکومت پر نئے ہنگامی ریونیو اقدامات نافذ کرنے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے مالیاتی خسارے کو کم کرنے کے لیے کھاد پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کو دگنا کر کے 10 فیصد کرے اور زرعی ادویات، یعنی پیسٹی سائیڈز پر 5 فیصد ایف ای ڈی نافذ کرے۔
دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی بِٹ کوائن نے اتوار کے روز ایک اور سنگ میل عبور کرتے ہوئے اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ کر عالمی مالیاتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پاکستان کو بجٹ میں 500 ارب روپے کی مشروط ایڈجسٹمنٹ کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے تاکہ سیلاب متاثرین کی فوری بحالی ممکن بنائی جا سکے،
پاکستان میں ہفتہ وار مہنگائی کا پیمانہ، سینسٹیو پرائس انڈیکیٹر (SPI)، 2 اکتوبر 2025 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 0.56 فیصد بڑھ گیا
پاکستان کا تجارتی خسارہ ستمبر 2025 میں نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی ہے۔
اسلام آباد میں جمعرات کو وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کے اجلاس میں 24 ارب روپے سے زائد کے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دی گئی،
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے چوتھے روز جمعرات کو بھی تیزی کا رجحان غالب رہا، جہاں ہنڈریڈ انڈیکس 800 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 166509 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس سال 2025 کے لیے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ میں 15 اکتوبر 2025 تک توسیع کر دی ہے۔
ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان کے لیے اپنی سالانہ معاشی جائزہ رپورٹ "ایشین ڈویلپمنٹ آؤٹ لک (ADO)" ستمبر 2025 میں معیشت کی بہتری کی جانب ایک محتاط مگر مثبت پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) نے آج اپنی تاریخ کا ایک اور سنگ میل عبور کر لیا، جب کاروباری ہفتے کے دوسرے روز 100 انڈیکس میں 1268 پوائنٹس کے نمایاں اضافے کے ساتھ انڈیکس 165,000 پوائنٹس سے تجاوز کر گیا۔
پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اسلام آباد میں پالیسی سطح کے مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے
وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے وزارت ریلوے اور وزارت خزانہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ریکو ڈک منصوبے سے متعلق ریلوے معاہدوں کی جامع منصوبہ بندی، عملدرآمد اور فنانسنگ کا تفصیلی خاکہ 30 مارچ 2026 تک پیش کریں
اسلام آباد میں ادارہ شماریات نے ہفتہ وار مہنگائی سے متعلق تازہ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق ملک میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں 0.16 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) نے کاروباری ہفتے کے آخری روز ایک اور نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے غیرمعمولی تیزی کے ساتھ بینچ مارک 100 انڈیکس کو 160,000 پوائنٹس سے بھی اوپر پہنچا دیا۔
پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط کے حصول کے لیے دوسرے اقتصادی جائزے پر اہم مذاکرات آج سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ملک بھر میں ٹیکس چوری میں ملوث بااثر سونے کے تاجروں، رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز اور دیگر غیر رجسٹرڈ کاروباری عناصر کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا، جہاں بینچ مارککے ایس ای 100 انڈیکس میں ابتدائی سیشن کے دوران 500 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ایف بی آر کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرضوں اور مالی معاونت کے حصول کے لیے اپنی ٹیکس بیس میں اضافے کا دباؤ ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کے روز کاروبار کے آغاز سے ہی زبردست خریداری کا رجحان غالب رہا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں منگل کو کاروبار کے آغاز پر بھرپور تیزی دیکھنے میں آئی، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس میں 950 پوائنٹس کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی میں شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا، مہنگائی کے خدشات اور اقتصادی استحکام کو مدنظر رکھا گیا۔
وزیرِاعظم پاکستان کی جانب سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے متعارف کرایا گیا "فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ" (FCA) سسٹم صرف تین ماہ میں قومی خزانے کو 100 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچا چکا ہے۔