عرفات منہاس 6 وکٹیں لے کر پاکستان کو ٹرائی سیریز کے دوسرے میچ میں انگلینڈ کے خلاف 87 رنز کی فیصلہ کن فتح دلانے میں کامیاب رہے۔ پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے 9 وکٹوں پر 302 رنز بنائے، جواب میں انگلینڈ کی پوری ٹیم 38.4 اوورز میں 215 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔
عرفات منہاس نے بیٹنگ میں 58 گیندوں پر 59 رنز بھی بنائے اور 40 رنز کے عوض 6 وکٹیں لیں، جس پر انہیں پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔
میچ کی صورتحال: عرفات منہاس کی ہمہ جہت کارکردگی
پاکستان کی اننگز 302 رنز 9 وکٹوں کے نقصان پر ختم ہوئی اور انگلینڈ کو جیت کے لیے 303 رنز کا ہدف ملا۔ ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کی ٹیم 50 اوورز مکمل نہ کر سکی اور 38.4 اوورز میں 215 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

بائیں ہاتھ کے اسپنر عرفات منہاس نے 8.4 اوورز میں 40 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں، ان کی اکانومی 4.61 رہی اور انہوں نے 24 ڈاٹ بالز کروائیں۔ ان کے آخری اسپیل میں 2.4 اوورز میں صرف 16 رنز کے عوض 4 وکٹیں گریں، جس نے انگلینڈ کی اننگز کا خاتمہ کر دیا۔ عرفات منہاس 6 وکٹیں لے کر اپنے 5 ون ڈے میچوں میں مجموعی وکٹوں کی تعداد 13 تک لے گئے، جن کی اوسط 14.00 ہے اور یہ ان کی بہترین بولنگ کارکردگی بھی ہے۔
شاہین شاہ آفریدی نے 7 اوورز میں 36 رنز دیے اور وکٹ حاصل نہ کر سکے، تاہم انہوں نے بھی 24 ڈاٹ بالز کروائیں۔ انگلینڈ کی جانب سے آخر میں سنی بیکر 2 گیندوں پر 1 رن بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
پس منظر: عرفات منہاس 6 وکٹیں اور ٹرائی سیریز کی دوڑ
یہ نتیجہ پاکستان کے لیے اس لیے اہم ہے کہ اس نے سیریز کے پہلے میچ میں سری لنکا کو ہرایا تھا اور اب انگلینڈ کو شکست دے کر مسلسل دوسری فتح اپنے نام کی۔ ورلڈ کپ سے قبل ہونے والی اس ٹرائی سیریز میں ارفات منہاس 6 وکٹیں لینے کے بعد پاکستان کی بولنگ کے لیے ایک مثبت اشارہ بن کر سامنے آئے ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ عرفات منہاس نے ابھی صرف 5 ون ڈے میچ کھیلے ہیں، اس لیے ایک شاندار کارکردگی کو مستقل فارم کا ثبوت قرار دینا قبل از وقت ہو گا۔
ماہرین کا تجزیہ
کرکٹ ماہرین کے مطابق ارفات منہاس 6 وکٹیں لے کر اور بیٹنگ میں 59 رنز بنا کر یہ ثابت کر چکے ہیں کہ وہ ٹیم کے لیے ہمہ جہت کھلاڑی بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق 303 رنز کے تعاقب میں انگلینڈ کا 215 پر آؤٹ ہونا بیٹنگ لائن کی کمزوری ظاہر کرتا ہے، تاہم پاکستان کو دیکھنا ہو گا کہ یہی تسلسل مضبوط حالات اور مختلف حریفوں کے سامنے بھی قائم رہتا ہے یا نہیں۔ ایک ہی کھلاڑی پر حد سے زیادہ انحصار ورلڈ کپ جیسے ٹورنامنٹ میں خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔