
رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں تجارتی خسارہ کے ساتھ ساتھ برآمدات اور درآمدات میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے
وفاقی ادار ہ شماریات کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں تجارتی خسارہ 4.50فیصد اضافہ کے ساتھ 17.13ارب ڈالر سے بڑھ کر 17.90ار ب ڈالر ہوگیا ہے ۔
اعدادوشمار میں مزید بتایاگیا ہے کہ پاکستانی برآمدات بھی 7.69 فیصد اضافہ کے ساتھ 22.93ارب ڈالر سے بڑھ کر 24.69ارب ڈالر ہوگئیں ہیں
اسی طرح درآمدات بھی 6.33فیصد اضافہ کے ساتھ 40.05ارب ڈالر سے بڑھ کر 42.59ارب ڈالر ہوگئیں ہیں ۔
اعدادوشمار کے مطابق مارچ 2025میں برآمدات 1.95فیصد اضافہ کے ساتھ 2.57ارب ڈالر سے بڑھ کر 2.62ارب ڈالر ہوگئیں ہیں

اسی طرح درآمدات بھی 2.45فیصد کمی کے ساتھ 4.86ارب ڈالر سے کم ہوکر 4.74ارب ڈالر ہوگئیں ہیں۔
ماہانہ مہنگائی کی شرح
ملک میں مہنگائی مسلسل دوسرے ماہ بھی وزارت خزانہ کے تخمینوں سے کم رہی، مارچ میں مہنگائی بڑھنے کی شرح مزید کم ہوکر 0.96 فیصد پر آگئی۔
ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی، فروری 2025 میں مہنگائی بڑھنے کی سالانہ شرح 1.52 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی، جولائی تا مارچ اوسط مہنگائی کی شرح 5.25 فیصد رہی، فروری کے مقابلے میں مارچ میں مہنگائی کی شرح میں 0.89 فیصد اضافہ ہوا۔
مارچ میں شہروں میں مہنگائی میں 0.78 فیصد کا اضافہ ہوا، گزشتہ ماہ دیہات میں مہنگائی کی شرح میں 1.05 فیصد اضافہ ہوا، مارچ میں شہروں میں مہنگائی کی شرح 1.16فیصد رہی، جب کہ دیہات میں مہنگائی کی شرح 0.02 فیصد ریکارڈکی گئی۔

بروکریج فرم ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے بتایا کہ مارچ 2025 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 0.7 فیصد پر آگئی ہے، جو تین دہائیوں کی کم ترین سطح ہے۔
مزید بتایا کہ فروری 2025 میں افراط زر کی شرح 1.5 فیصد تھی، جبکہ مالی سال 2025 کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران مہنگائی بڑھنے کی اوسط رفتار 5.25 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران 27.06 فیصد رہی تھی۔
یاد رہے کہ وزارت خزانہ نے مارچ کے مہینے کے لیے مہنگائی کا تخمینہ 3 سے 4 فیصد کے درمیان لگایا تھا۔