
سلمان خان کی نئی فلم ”سکندر“ نہ صرف روایتی بالی وڈ کے شوقین افراد کے لیے ایک بڑی مایوسی ثابت ہوئی بلکہ خود ان کے پکے مداحوں کو بھی شدید مایوس کر گئی، جو سالہا سال سے عید کے موقع پر اپنی محنت کی کمائی خرچ کر کے ان کے لیے تالیاں بجاتے اور سیٹیوں سے سینما ہال کے در و دیوار دہلاتے رہے۔
سلمان خان ہمیشہ یہی کہتے آئے ہیں کہ ان کی فلمیں مخصوص ناظرین کے لیے ہوتی ہیں، جو تفریح کے نام پر ہر چیز کو قبول کر لیتے ہیں۔ لیکن ”سکندر“ میں یہ حد بھی پار کر دی گئی۔ فلم وہ بنیادی تفریح بھی فراہم کرنے میں ناکام رہی، جس کے لیے خان کو پہچانا جاتا ہے— دھواں دار ایکشن، جذبات، رومانس اور کہانی، جس میں سلمان خان کی بے مثال موجودگی سب پر بھاری ہو۔
کہاں غلطی ہوئی؟
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر اس بار کیا غلط ہوا؟ کیا سلمان خان اور ان کے قریبی لوگ خود احتسابی پر یقین نہیں رکھتے؟ کیا وہ اپنے پچھلے تجربات سے کچھ نہیں سیکھ رہے؟ کیا انہیں یہ تسلیم کرنے میں مشکل ہو رہی ہے کہ وقت بدل چکا ہے، انڈسٹری آگے بڑھ چکی ہے، اور ناظرین کی توقعات میں اضافہ ہو چکا ہے؟
”سکندر“ وہ فلم ہے جس نے نہ صرف ناظرین کو مایوس کیا بلکہ خود سلمان خان کو بھی نقصان پہنچایا۔ فلم کی ٹیم نے شاید یہ سمجھ لیا تھا کہ خان کا نام ہی کافی ہوگا، لیکن سچ تو یہ ہے کہ خود سلمان خان نے بھی اس بار فلم کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

سلمان خان: ایک ایسا اسٹار جسے کبھی اداکاری کی ضرورت نہیں پڑی
سلمان خان کا شمار ان نایاب اداکاروں میں ہوتا ہے جنہیں شاید کبھی اداکاری کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔ وہ صرف اپنی موجودگی سے پردے پر چھا جاتے ہیں۔ وہ بالی وڈ کے سب سے منفرد اور بڑے اسٹارز میں سے ایک ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں ان کی فلمیں اس سحر کو توڑتی جا رہی ہیں۔
”سکندر“ شاید وہ فلم ہے جس نے ان کے پرستاروں کے ذہنوں میں موجود ان کے ناقابلِ شکست امیج کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس زوال کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا صرف سلمان خان؟ یا ان کے اردگرد موجود وہ لوگ بھی، جو ان سے اختلاف کرنے یا انہیں حقیقت کا آئینہ دکھانے کی ہمت نہیں رکھتے؟
”سکندر“ کی ناکامی کی وجوہات
فلم کی سب سے بڑی کمزوری اس کا اسکرپٹ ہے، جسے اے آر مرگوداس جیسے ہدایتکار نے لکھا، جو ”گجنی“ جیسی فلم بنا چکے ہیں۔ لیکن یہاں وہ سلمان خان کے ساتھ کچھ خاص کرنے میں ناکام رہے۔ کہانی میں نہ تو کوئی گہرائی ہے اور نہ ہی کسی اور کردار کو مناسب موقع دیا گیا۔ پروڈیوسرز نے بس فلم کو مہنگا بنانے پر زور دیا، لیکن یہ بھول گئے کہ اب ناظرین صرف چمک دمک سے متاثر نہیں ہوتے۔
یہ مسئلہ صرف سلمان خان کا نہیں، بلکہ پوری ٹیم کی اجتماعی ناکامی ہے۔ سب نے بس یہ سوچا کہ سلمان خان خود ہی فلم کو کامیاب بنا لیں گے، لیکن جب خود سلمان خان نے فلم کو سنجیدہ نہیں لیا تو باقی ٹیم کیسے لیتی؟
سلمان خان اور ان کا ماضی
یہ وہی سلمان خان ہیں جنہوں نے سلطان، بجرنگی بھائی جان، وانٹڈ، دبنگ، ریڈی جیسی فلمیں دیں۔ وہ جن کا رومانوی انداز ”دل تو پاگل ہے“ اور ”ہم آپ کے ہیں کون“ میں ناظرین کے دلوں کو چھو گیا۔ لیکن اب وہی سلمان خان اسکرین پر بے جان نظر آ رہے ہیں۔
سلمان خان اور رشمیکا مندنا کی جوڑی – ایک اور ناکام تجربہ
عمر کے فرق پر بحث نہ بھی کریں، تب بھی سلمان خان اور رشمیکا مندنا کی جوڑی میں کوئی خاص کیمسٹری نظر نہیں آئی۔ یہ وہی سلمان خان ہیں جنہوں نے مادھوری دکشت، کرشمہ کپور، کترینہ کیف، اور پریانکا چوپڑا کے ساتھ شاندار کیمسٹری دکھائی۔ لیکن سکندر میں وہ جادو کہیں کھو گیا۔
کیا سلمان خان کو اب خوداحتسابی کرنی چاہیے؟
”سکندر“ دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب سلمان خان کو ایک قدم پیچھے ہٹ کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ ان کی حالیہ فلموں کی ناکامی کوئی بڑا مسئلہ نہ ہوتی، لیکن ”سکندر“ نے امیدوں کو ختم کر دیا ہے۔ اگر وہ خوداحتسابی نہیں کرتے تو شاید وہ اپنی ہی شبیہ کو مزید نقصان پہنچائیں گے۔
اب مسئلہ صرف ان کی فلموں میں دکھائی جانے والی مردانگی، تشدد یا روایتی دقیانوسی رویوں کا نہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ان کی فلموں میں وہ خود بھی کھوئے ہوئے محسوس ہو رہے ہیں۔
کیا سکندر کو بھلانا ہی بہتر ہوگا؟
جب سلمان خان نے ”پٹھان“ میں شاہ رخ خان کے ساتھ ایک سین کیا تھا تو پورا ہال خوشی سے جھوم اٹھا تھا، کیونکہ تب بھی ان کے اندر وہی کرشمہ باقی تھا۔ لیکن ”سکندر“؟ اگر ہم اس فلم کو اپنی یادداشت سے مٹا سکیں تو شاید ہم سلمان خان کو اس شرمندگی سے بچا سکیں کہ انہوں نے اپنے مداحوں کو مایوس کر دیا ہے۔