پاکستان، ورلڈ بینک کا اصلاحاتی ایجنڈے کا جائزہ
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور ورلڈ بینک حکام نے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران ٹیکس اصلاحات، قرضہ جاتی حکمت عملی اور ادارہ جاتی تبدیلیوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔
ہیش ٹیگ
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور ورلڈ بینک حکام نے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران ٹیکس اصلاحات، قرضہ جاتی حکمت عملی اور ادارہ جاتی تبدیلیوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔
وفاقی وزیر خزانہ Muhammad Aurangzeb عالمی مالیاتی اداروں کے بہار اجلاسوں میں شرکت کے لیے امریکہ روانہ ہوگئے ہیں جہاں وہ 13 سے 18 اپریل تک واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے اہم اجلاسوں میں شریک ہوں گے۔
پاکستان نے 36 ارب ڈالر کے توانائی شعبے کے مہنگے قرضوں کی ری فنانسنگ کے لیے ورلڈ بینک سے رابطہ کیا ہے۔ یہ قرضے ماضی میں پاور پراجیکٹس کی تنصیب کے لیے لیے گئے تھے، جن میں زیادہ تر چینی مالیاتی اداروں سے حاصل کیے گئے کمرشل قرضے شامل ہیں۔
عالمی بینک نے پاکستان کے لیے 40 کروڑ ڈالر (تقریباً 11 ارب روپے) کے قرض کی منظوری دے دی ہے۔
وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ دو ماہ میں ملک کی پہلی مسابقتی انرجی مارکیٹ پالیسی نافذ العمل ہوجائے گی، حکومت کی جانب سے بجلی کی خریداری کا سلسلہ مستقل طور پر ختم ہو جائے گا۔
سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی ثالثی عدالت نےپاکستان کے موقف کی تائید کردی، حکومت پاکستان نے ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
عالمی بینک نے پاکستان میں غربت سے متعلق نیا جائزہ جاری کردیا جس کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح 39.8 سے بڑھ کر 44.7 فیصد ہوگئی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ اسپرنگ اجلاسوں کے دوسرے دن اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا
وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی کے دورے کا آغاز گزشتہ روز (سوموار) آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک گروپ کی سالانہ اسپرنگ میٹنگز 2025 کے موقع پر متعدد اعلی سطحی ملاقاتوں سے کیا۔
عالمی بینک نے پاکستان کے لیے 10 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز قرض کی منظوری دے دی۔
عالمی بینک کے جنوبی ایشیا کے لیے نائب صدر مارٹن ریزر نے کہا ہے کہ پاکستان 2035 تک ایک ہزار ارب ڈالر کی معیشت بننے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے، تاہم اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو سالانہ 7 فیصد کی شرح نمو سے ترقی کرنا لازمی ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور عالمی بینک کے نائب صدر برائے جنوبی ایشیا مارٹن رائسر کی موجودگی میں پاکستان کے لیے عالمی بینک کے 20 ارب ڈالر کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (سی پی ایف) لانچ کردیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان بیرونی معاشی دباؤ سے نکلنے کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے تقریباً ارب ڈالرز کی مالی معاونت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
پاکستان کی معیشت سے متعلق آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے متضاد پیش گوئیاں کی ہیں۔
کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹجی پالیسی فریم ورک کے ذریعے آئی ایم ایف سے 8 ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے جس میں چند بڑے ترجیحی ایریاز ہوں گے۔