گیس گردشی قرض پر آئی ایم ایف کی نئی شرائط
گیس سیکٹر کے بڑھتے ہوئے گردشی قرضے کے بحران کے حل کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے سامنے نئی شرائط رکھ دی ہیں
ہیش ٹیگ
گیس سیکٹر کے بڑھتے ہوئے گردشی قرضے کے بحران کے حل کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے سامنے نئی شرائط رکھ دی ہیں
پاکستان میں گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا امکان پیدا ہو گیا ہے
حکومت نے گیس سیکٹر کا تقریباً 1500 ارب روپے سرکلر ڈیٹ تین سال میں ختم کرنے کا منصوبہ بنا لیا، منظوری کے لیے آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری ہیں، جبکہ بجٹ میں ادائیگی کے لیے رقم مختص کرنے کی تیاری بھی شروع کردی گئی ہے۔
قومی اسمبلی کمیٹی کو بتایا گیا کہ گیس سیکٹر کا گردشی قرض 3,283 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے جبکہ سوئی ناردرن اور سوئی سدرن کو چوری اور لیکج سے سالانہ 60 ارب روپے نقصان ہو رہا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن نے موسم سرما میں گیس کی طلب کو منظم کرنے کے لیے تیاریاں تیز کر دی ہیں، اور وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) اور سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) کی لوڈ مینجمنٹ حکمت عملیوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی۔
پاکستان میں گھریلو صارفین کے لیے اب ملکی قدرتی گیس پر نیا کنکشن لینا ممکن نہیں رہے گا، کیونکہ وفاقی حکومت نے مستقل بنیادوں پر ان کنکشنز پر پابندی عائد کر دی ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے یہ ہدایت وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) کو ارسال کر دی گئی ہے۔
وفاقی کابینہ نے گیس کے نئے کنکشن پر عائد پابندی ختم کرنے، زرعی ایمرجنسی اور ماحولیاتی ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت پاکستان نے سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (SSGC) کو درپیش غیر حساب شدہ گیس (UFG) کے نقصانات کم کرنے کے لیے کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی حکومت کا بجلی کے گردشی قرض کے بعد گیس کے گردشی قرض کو بھی حکومتی گیس کمپنیوں کی بیلنس شیٹ سے ختم کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے گیس کمپنیوں کے لیےگیس نرخوں میں ردوبدل کی منظوری دے دی تاہم حتمی منظوری کے لیے سمری وفاقی حکومت کو بھجوا دی گئی۔
گیس کمپنیوں نے آئندہ مالی سال کے لیے گیس کی قیمتوں میں اضافہ مانگ لیا،
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے رواں مالی سال کے لیے گیس کی قیمت بڑھانے کی منظوری دے دی۔
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے گیس کی قیمتوں کے نوٹیفکیشن کے لیے 15 فروری 2025 تک کی ڈیڈ لائن دے دی، سرکاری گیس کمپنیوں نے 53.47 فیصد تک گیس مہنگی کرنے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔
سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) نے اضافی بل خسارہ اور گیس چوری چھپانے کے لئے صارفین کو11 ارب روپے کے زائد بل بھیج دئے۔
پیٹرولیم سیکٹر کے مسائل کے حل کےلیے بنائی گئی کمیٹی نے گیس کے بلوں میں بھی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ نظام متعارف کرانے کی ہدایت کی ہے۔
پاکستان اسٹیل کے نقصانات 6 سو ارب روپے تک پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے، اسٹیل ملز کے نقصانات 224 ارب اور ادائیگیوں کا بوجھ 335 ارب ہے
پاکستان بھر میں سالانہ 40 ارب روپے کی گیس چوری کا انکشاف ہوا ہے۔
حکومت نے قدرتی گیس کے کیپٹو صنعتی صارفین کے لیے کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی ہے جبکہ گھریلو صارفین کےلیے قیمتوں کو برقرار رکھا ہے،