5 سال میں حکومت نے 57 ارب 27 کروڑ ڈالر ملکی قرضہ لیا
قومی اسمبلی گزشتہ پانچ سالوں کے دوران لیے غیر ملکی قرضوں کی تفصیلات پیش کر دی گئیں۔
ہیش ٹیگ
قومی اسمبلی گزشتہ پانچ سالوں کے دوران لیے غیر ملکی قرضوں کی تفصیلات پیش کر دی گئیں۔
اسٹیٹ بینک نے 10 روپے سے 5 ہزار روپے تک نئے نوٹوں کے دیدہ زیب ڈیزائن شارٹ لسٹ کر لیے۔
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے 4 ستمبر تک ہونے والے اپنے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے ایجنڈے میں ابھی تک پاکستان کو شامل نہیں کیا ہے۔
گزشتہ چند دہائیوں کے دوران مختلف حکومتوں کی جانب سے لیے جانے والے قرضوں کی تفصیلات سامنے آ گئیں جہاں ملکی قرضوں اور واجبات میں گزشتہ سوا دو سال کے دوران 31 ہزار 363 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
قلیل مدتی مہنگائی سالانہ بنیادوں پر 8 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران تنزلی کے بعد کم ہو کر 16.86 فیصد آگئی۔
آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایف بی آر نے پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے ٹیکس وصولی کا ہدف 60 ارب روپے کے مارجن سے پورا نہیں کیا تو پھر ٹیکس مشینری کو موجودہ مالی سال کے دوران ایک ہنگامی منصوبہ نافذ کرنا ہوگا۔
پاکستان پر قرضوں کے سارے سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے جہاں ایک سال میں قرض آٹھ ہزار 395 ارب روپے کے اضافے کے بعد 84 ہزار 907 ارب روپے تک پہنچ گئے۔
وفاقی حکومت نے ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے مرتب کردہ پانچ سالہ ریونیو جنریشن پلان آئی ایم ایف کو فراہم کردیا ہے
وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ ملک کے بیرونی قرضوں میں گزشتہ 16 برسوں کے دوران 21.3 کھرب اور اندرونی قرضوں میں 40.2 کھرب روپے کا اضافہ ہوگیا ہے۔
ملک میں رواں مالی سال 25-2024کے وفاقی بجٹ کے نفاذ کے بعد سے ایک ہفتے معمولی کمی کے بعد مہنگائی کی شرح میں پھر سے اضافہ ہوگیا
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کی بہتری کیلئے اقدامات کررہے ہیں اور کوشش رہے ہیں کہ نچلے طبقے پر ٹیکس کا بوجھ نہ ڈالا جائے۔
رواں مالی سال کا ٹیکس سے بھرپور بجٹ اور مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کے فیصلے نے توجہ سیاست سے معیشت کی جانب مبذول ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں آئی ایم ایف کے نئے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کی شرائط پوری کرنے کی ملک کی صلاحیت پر شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔
ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کا کہنا ہے کہ پاکستان کو سود کی ادائیگی کے لیے مالی محصولات کا 62 فیصد درکار ہوگا جو 23-2022 میں 41 فیصد تھا۔
فچ سلوشنز کمپنی بی ایم آئی کے اندازے کے مطابق ایس بی پی رواں سال یعنی 2024 کے اختتام تک اپنی بنیادی پالیسی ریٹ کو کم کرکے 16 فیصد اور 2025 کے آخر تک اسے مزید کم کرکے 14 فیصد کر دے گا۔
آئی ایم ایف نے عالمی معیشتوں کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ان کی پیداوار میں تنوع کم ہوگیا ہے، مہنگائی اور بڑھنے کا خطرہ اور سود کی شرح میں اضافے کا امکان بھی بڑھ گیا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 16 جولائی سے بڑے اضافے کا امکان ہے۔
وفاقی وزارت خزانہ نےآئی ایم ایف کے بنیادی اضافی اہداف کو پورا کرنے کے لیے فنڈز کے بیک لوڈڈ ریلیز کے ذریعے ترقیاتی اور جاری اخراجات کی وفاقی فنانسنگ روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے ہوگیا ہے۔
پاکستان انفارمیشن کمیشن نے وفاقی حکومت کے رائٹ ٹو ایکسیس آف انفارمیشن ایکٹ 2017ء کے تحت گورنر اسٹیٹ بنک آف پاکستان کو 1000بڑے قرض نادہندگان کی فہرست 10روز کے اندر افشاء کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔
ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی میں 1.30 فیصد کا اضافہ ہوگیا۔
اسٹیٹ بینک آج مانیٹری پالیسی کااعلان کرےگا، ماہرین کے مطابق شرح سود میں کمی کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کے ایک اور راؤنڈ کا غیر نتیجہ خیز اختتام ہوگیا۔
رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں وفاقی حکومت کے قرض میں 5 ہزار 243 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا۔
پی پی آئی بی نے ڈالر کی کمی کا شکار ایس بی پی پر زور دیا ہے کہ وہ بجلی کے منصوبوں کی غیر ملکی ادائیگیوں کے لیے 758 ملین ڈالر فراہم کر