قرضوں میں 13 ہزار ارب روپے کا اضافہ
اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق موجودہ حکومت کے ابتدائی 16 مہینوں میں پاکستان پر مجموعی قرضوں اور واجبات کا بوجھ 94 ہزار 197 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
ہیش ٹیگ
اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق موجودہ حکومت کے ابتدائی 16 مہینوں میں پاکستان پر مجموعی قرضوں اور واجبات کا بوجھ 94 ہزار 197 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کا اجلاس 15 ستمبر 2025 کو متوقع ہے جس میں اگلے چھ ہفتوں کے لیے پالیسی ریٹ کا تعین کیا جائے گا۔
وزارت توانائی اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے درمیان چینی توانائی منصوبوں کو واجب الادا 431 ارب روپے کی ترسیلات کے معاملے پراختلافات سامنے آ گئے ہیں۔ یہ رقم کمرشل بینکوں کے ذریعے فراہم کی جانی ہے، تاہم پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ یہ ادائیگیاں تاحال رکی ہوئی ہیں۔
وفاقی حکومت نے ترسیلاتِ زر پر سبسڈی اسکیم کو دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور ابتدائی طور پر 30 ارب روپے کی اضافی گرانٹ دی جائے گی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے آج نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان متوقع ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک پریس کانفرنس میں موجودہ مالی و اقتصادی حالات کے پیشِ نظر آئندہ شرح سود سے متعلق پالیسی بیان جاری کریں گے۔
انٹربینک مارکیٹ میں جمعرات کو امریکی کرنسی کے مقابلےروپے کی قدر میں 0.26 فیصد نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
نیشنل سیونگز نے 750روپے مالیت کے انعامی بانڈز کی قرعہ اندازی کا اعلان کردیا ہے ، پہلا انعام 15 لاکھ روپے کا نکلا
حکومت قانونی ذرائع سے ترسیلات بھیجنے والے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو دی جانے والی بعض مراعات ختم کرنے کے لیے تیار ہے۔
وفاقی حکومت نے مالی سال 25-2024 کے لیے مقرر کردہ مہنگائی کا ہدف حاصل کرلیا، گزشتہ مالی سال کے دوران اوسط افراط زر 4.49 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پاکستان اور چین نے اس ہفتے 3.7 ارب ڈالر کے مساوی کمرشل قرضوں کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں جس سے زرمبادلہ کے ذخائر گزشتہ ہفتے 8.9 بلین ڈالرکی نازک سطح سے دوبارہ دہرے ہندسوں تک پہنچ گئے ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس پیر کو ہوا جس میں گزشتہ5 مئی 2025 کو ہوئے آخری اجلاس میں پالیسی ریٹ کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا،
اسٹیٹ بینک نئی مالیاتی پالیسی کا اعلان کل کرے گا۔ شرح سود گیارہ فیصد تک برقرار رکھنے کی توقع ہے۔
وفاقی حکومت نے توانائی شعبے کے گردشی قرضے پر قابو پانے کے لیے کمرشل بینکوں سے 1275 ارب روپے کے تاریخی قرضہ پیکیج کو حتمی شکل دے دی ہے
پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ اہداف پر مکمل اتفاق رائے نہ ہوسکا، تاہم آئی ایم ایف نے نئے مالی سال کے بجٹ پر مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔
پاکستان پرقرضے ملکی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے-
سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا، اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں شرح سود کا تعین کیا جائے گا۔
رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی قرض72ہزار138ارب روپے ہو گیا جس میں 24ہزار602ارب روپے بیرونی قرض ہے،فی کس تین لاکھ ایک ہزار954 ارب روپے ہوگیا ،
پی ٹی اے نے آن لائن فراڈ پر 604 یو آر ایل بلاک کردئیے۔ جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس مالیاتی فراڈ کے لیے استعمال ہورہے تھے۔
بائنانس کے بانی چانگ پینگ ژاؤ کو پاکستان کرپٹو کونسل کا اسٹریٹجک مشیر مقرر کردیا گیا۔
عیدالفطر کی آمد پر شہریوں میں نئے نوٹ حاصل کرنے کی تگ و دو شروع ہو چکی ہے جس کو بآسانی ٹیکسٹ میسج کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے شرح سود 12 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سٹیٹ بینک کل نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے گا، بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔
وزارت خزانہ کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) میں اعلی عہدوں پر دوہری شہریت رکھنے والوں کی مجوزہ تقرری کے حوالے سے کابینہ کے کچھ ارکان کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے وفد نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کی، وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کو پاکستان کی معاشی صورتحال اور معاشی اصلاحات کے ایجنڈے پر بریف کیا۔