وزیر خزانہ کی زیر صدارت ای سی سی اجلاس
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس پیر کے روز وزیر خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت فنانس ڈویژن میں منعقد ہوا
ہیش ٹیگ
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس پیر کے روز وزیر خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت فنانس ڈویژن میں منعقد ہوا
اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس آج ہونے جا رہا ہے جس میں عمان سے تیل کی خریداری کے معاہدے سمیت متعدد اہم مالی امور پر غور کیا جائے گا
سرکاری ملکیتی پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے مختلف ڈپوؤں میں تقریباً تین لاکھ میٹرک ٹن پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر میں مبینہ ردوبدل اور بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں
پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) کے چیئرمین آصف بیگ محمد کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے امکانات کمزور ہوتے جا رہے ہیں، جبکہ ذرائع کے مطابق وہ گزشتہ کئی ہفتوں سے اسلام آباد میں مسلسل اہم ملاقاتیں اور رابطے کر رہے ہیں تاکہ اپنے عہدے میں توسیع حاصل کر سکیں۔
Pakistan State Oil نے 31 دسمبر 2025 کو ختم ہونے والی ششماہی مدت میں منافع میں معمولی اضافہ رپورٹ کیا ہے،
پاکستان کو ایک بار پھر عالمی تیل مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ کے باعث بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، جہاں ڈیزل کی درآمدی پریمیم میں نمایاں اضافہ ملک کو نئے فیول پرائس شاک کے قریب لے آیا ہے۔
قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کی انتظامیہ نے ملک میں موجود اپنی پانچ اہم جائیدادوں کا ازسرِنو تخمینہ لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے لیے حکومت سے رجسٹرڈ فرموں سے درخواستیں طلب کر لی گئی ہیں۔
پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی لمیٹڈ (پی ایس او) نے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کی تقرری کے لیے باضابطہ طور پر درخواستیں طلب کر لی ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنی میں یہ اعلیٰ سطح کی تقرری ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب توانائی کا شعبہ مالی دباؤ، ریگولیٹری چیلنجز اور بدلتے ہوئے عالمی توانائی رجحانات سے گزر رہا ہے۔
اسلام آباد کی سرینگر ہائی وے پرسعودی آئل کمپنی آرامکو کے برانڈڈ فیول کی فروخت کی اجازت کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ درخواست PSO فیول اسٹیشن کے مالک محمد شفیق میر کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جن کا مؤقف ہے کہ آرامکو کے پاس پاکستان میں بطور آئل مارکیٹنگ کمپنی آپریٹ کرنے کا لائسنس موجود نہیں، اس لیے اس کے پیٹرول کی فروخت قانون کے برخلاف ہے۔
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) کو قطر انرجی کے ساتھ 2026 میں ترسیل کے لیے طے شدہ 24 سے 29 مائع قدرتی گیس (LNG) کارگو کو دوسری جگہ منتقل (Divert) کرنے کے اہم معاہدے کو حتمی شکل دینے کی اجازت دے دی ہے۔ اس معاہدے کو مکمل کرنے کی آخری تاریخ 15 نومبر 2025 مقرر کی گئی ہے۔
پاکستان کا توانائی کا شعبہ ایک شدید مالی بحران سے دوچار ہے، جو ممکنہ طور پر یکم جنوری 2026 سے صارفین کے لیے گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
پاکستان کا آذربائیجان کے ساتھ گیس سپلائی کا اہم معاہدہ طے پا گیا۔
اکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا۔