پاور سیکٹر: شفاف، ڈیجیٹل اور صارف دوست
وفاقی وزیر پاور ڈویژن اویس احمد خاں لغاری نے کہا ہے کہ حکومت پاور سیکٹر کو مکمل طور پر ڈیجیٹل، شفاف اور صارف دوست بنا رہی ہے۔
ہیش ٹیگ
وفاقی وزیر پاور ڈویژن اویس احمد خاں لغاری نے کہا ہے کہ حکومت پاور سیکٹر کو مکمل طور پر ڈیجیٹل، شفاف اور صارف دوست بنا رہی ہے۔
آج اسلام آباد میں ایک اہم تقریب منعقد ہوگی جس میں حکومت اور 18 بینکوں کے مابین گردشی قرضوں کو کم کرنے کے لیے قرض معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے
وفاقی حکومت کی جانب سے جون 2025 میں پاور سیکٹر کے گردشی قرضے کے خاتمے کی منظوری کے باوجود جولائی میں اس قرضے میں 47 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے
موجودہ حکومت کےپہلے 16ماہ میں پاور سیکٹرکا گردشی قرضہ ( سرکلر ڈیٹ) ایک ہزار 65 ارب روپےکم ہوگیا۔
سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) نے انکشاف کیا ہے کہ پاور سیکٹر کے ذمے 76.523 ارب روپے کے واجبات غیر معمولی طور پر بڑھنے کے باعث کمپنی شدید مالی بحران سے دوچار ہے۔
جولائی میں بجلی کی قیمت میں 51 فیصد اضافے کے باجود رواں مالی سال کے اختتام تک گردشی قرضہ 2.8 ہزار ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔
آئی پی پیز کے ساتھ باہمی رضامندی سے نظر ثانی شدہ معاہدوں کے بارے میں اچھی خبر چند ہفتوں میں عوام کے ساتھ شیئر کی جائے گی کیونکہ ٹاسک فورس تقریباً اپنے حتمی نتائج تک پہنچ چکی ہے۔
حکومت نے پاور سیکٹر کی بہتری کیلئے قلیل مدتی اور وسط مدتی اصلاحاتی پلان تیار کرلیا، کراس سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ،