راولپنڈی، اسلام آباد سمیت پنجاب بھر میں بارشیں
جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں موسلادھار بارش کے باعث کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے رین ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
ہیش ٹیگ
جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں موسلادھار بارش کے باعث کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے رین ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری تازہ ترین تین روزہ پیشگوئی کے مطابق ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں شدید گرمی اور حبس کا سلسلہ برقرار رہے گا
ملک بھر میں جاری مون سون بارشوں نے تباہی مچانا جاری رکھی ہوئی ہے۔ ہفتے کے روز بارش سے متعلق مختلف حادثات میں مزید 11 افراد جاں بحق جبکہ 25 زخمی ہوگئے
ملک بھر میں مون سون بارشوں کے پہلے طاقتور اسپیل نے تباہی مچا دی، جہاں مختلف حادثات میں کم از کم 9 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔
پنجاب میں دریاؤں کی طغیانی سے سیلابی ریلوں نے 47 لاکھ افراد کو متاثر کیا، 112 اموات ہوئیں، متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہیں۔
پنجاب کے بعد سندھ میں سیلاب نے شدت اختیار کر لی ہے اور دریائے سندھ میں پانی کی آمد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث 907 افراد جاں بحق اور 1044 زخمی ہوئے جبکہ ہزاروں مکانات اور مویشیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
پنجاب میں دریائے چناب اور دریائے راوی میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب نے متعدد اضلاع کو متاثر کیا، ہیڈ سدھنائی کو بچانے کے لیے مائی صفوراں بند توڑ دیا گیا جبکہ ہزاروں ایکڑ فصلیں دریا بُرد ہوگئیں۔
ملک بھر میں جاری شدید بارشوں کے باعث دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ بڑھ گیا ہے جبکہ محکمہ موسمیات نے یکم ستمبر سے 3 ستمبر تک نئے سیلابی خطرات کی پیشگوئی کر دی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گڈو بیراج پر صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ 9 لاکھ کیوسک کا ریلا آیا تو پورا کچہ ڈوب جائے گا، لوگوں کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔
پنجاب اور بلوچستان میں دریاؤں کی بلند سطح سے شدید سیلابی صورتحال، 15 لاکھ افراد متاثر، 28 ہلاکتیں، لاکھوں کی نقل مکانی جبکہ آئندہ 48 گھنٹے انتہائی اہم قرار دیے گئے۔
پاور ڈویژن نے سیلابی صورتحال کے پیش نظر بجلی کے انفراسٹرکچر کے تحفظ اور بجلی کی فراہمی کو برقرار رکھنے کے لیے ڈسکوز اور آپریشنل ٹیموں کو فوری اقدامات کی ہدایت دی ہے۔
بھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی چھوڑنے اور مسلسل بارشوں کے باعث پنجاب میں شدید سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی، کرتارپور مکمل طور پر زیرِ آب آ گیا اور دریا کنارے بستیوں سے لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی جاری ہے۔
پنجاب کے مشرقی اضلاع میں دریاؤں میں اونچے درجے کے سیلاب کے خدشے کے باعث بڑے پیمانے پر انخلا شروع کر دیا گیا ہے جبکہ گلگت بلتستان میں حالیہ برفانی اور طغیانی سیلاب سے متاثرہ ہزاروں افراد تاحال حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔
پنجاب اور سندھ کے کئی اضلاع شدید سیلابی صورتحال سے دوچار ہیں جہاں دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند ہونے سے دیہات اور کھیت زیر آب آ گئے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بادل پھٹنے کے باعث پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال نے تباہی مچادی، بونیر میں 157 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ صوبے میں مجموعی اموات 198 تک جاپہنچی ہیں، جبکہ صوبائی حکومت نے کل سوگ منانے کا اعلان کردیا ہے، وزیراعلیٰ نے متاثرہ اضلاع کیلئے 50 کروڑ روپےجاری کردیے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بادل پھٹنے کے باعث پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال نے تباہی مچادی، ڈی سی بونیر نے آبی ریلوں میں بہہ کر 78 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی جبکہ صوبے میں مجموعی اموات167 تک جاپہنچی ہیں، جبکہ صوبائی حکومت نے کل سوگ منانے کا اعلان کردیا ہے۔
محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے نے پنجاب سمیت پاکستان کے دیگر حصوں میں مزید بارشوں کے لیے نئی ایڈوائزریز جاری کی ہیں۔
پنجاب میں جاری مون سون بارشوں کے حوالے سے پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے تازہ ترین فیکٹ شیٹ جاری کر دی، جس میں بارشوں کے باعث اب تک 39 قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کی تصدیق کی گئی ہے۔