قومی اسمبلی: فنانس بل 2026-27 کثرت رائے سے منظور
قومی اسمبلی نے فنانس بل 2026-27 کثرت رائے سے منظور کر لیا جبکہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تمام ترامیم مسترد کر دی گئیں۔
ہیش ٹیگ
قومی اسمبلی نے فنانس بل 2026-27 کثرت رائے سے منظور کر لیا جبکہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تمام ترامیم مسترد کر دی گئیں۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پارلیمنٹ سے 3 کھرب 68 ارب 40 کروڑ روپے کے ریکارڈ اضافی اور ضمنی اخراجات کی بعد از خرچ منظوری طلب کر لی ہے، جس نے حکومتی مالی نظم و ضبط اور کفایت شعاری کے دعوؤں پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
حکومت آئندہ مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ کل پارلیمنٹ میں پیش کرے گی، جس کا مجموعی حجم تقریباً 17 ہزار 500 ارب روپے رہنے کا امکان ہے۔
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج جمعہ کو دن 11 بجے طلب کر لیا گیا ہے جس میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بھی شرکت کرے گی۔ اجلاس میں اہم قانون سازی متوقع ہے۔
آج Majlis-e‑Shoora (پارلیمنٹ) کا مشترکہ اجلاس اسلام آباد میں طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس کا آغاز گیارہ بجے ہوگا اور اس میں 15 نکاتی ایجنڈے کے تحت چند اہم بل زیرِ غور آئیں گے۔
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل صبح گیارہ بجے طلب کر لیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی نے 27ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کرلی، ترمیم کے حق میں 234 جبکہ مخالفت میں صرف چار ووٹ پڑے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔
اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتوں نے پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے کل ہونے والے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس شروع ہو گیا۔
اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہ اور مراعات وفاقی سیکریٹری کے برابر کرنے کے معاملے پر فنانس کمیٹی نے ایم این ایز اور سینیٹرز کی تنخواہ و مراعات میں اضافے کی منظوری دے دی۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل صبح 10 بجے طلب کر لیا۔
وفاقی حکومت نے اہم قانون سازی کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 24 جنوری بروز جمعے کو بلانے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں متعدد قوانین منظور کیے جائیں گے۔
ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل 2024 قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا، بل کا مقصد پائیدار ترقی کو تیز کرنے، عوامی خدمات کی فراہمی کو فروغ دینے اورمؤثر طریقے سے گورننس کو جدید بنانے کی کوشش کرنا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے والے ارکان کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کرنے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں جلسوں کے شیڈول سمیت احتجاجی تحریک کی بھی منظوری دے دی۔
آئینی ترامیم پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کی تیاریاں مکمل کرلی گئیں، ذرائع کے مطابق آئینی ترامیم کی پہلے وفاقی کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔
مجوزہ آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس 18 یا 19 اکتوبر کو بلائے جانے کا امکان ہے۔
پارلیمنٹ کی آئینی ترامیم کے حوالے سے خصوصی کمیٹی کا اجلاس ختم ہوگیا۔ اجلاس کے دوران پی پی پی اور پی ٹی آئی کے ارکان میں تلخ کلامی بھی ہوئی۔
مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس ای او) اجلاس کے بعد اتفاق رائے سے آئینی ترمیم کی جائے گی۔
مجوزہ وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ مجوزہ آئینی عدالت کے لیے آئینی ترمیم لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔