آئندہ ہفتے 18 آئی پی پیز طلب
حکومت آئی پی پیز کے اعلیٰ حکام کو اگلے ہفتے طلب کرنا شروع کر دے گی تاکہ ان کے پلانٹس کو ’ٹیک یا پے‘ سے ’ٹیک اینڈ پے‘ موڈ میں تبدیل کرنے کے لئے دستیاب آپشنز پیش کیا جاسکے۔
ہیش ٹیگ
حکومت آئی پی پیز کے اعلیٰ حکام کو اگلے ہفتے طلب کرنا شروع کر دے گی تاکہ ان کے پلانٹس کو ’ٹیک یا پے‘ سے ’ٹیک اینڈ پے‘ موڈ میں تبدیل کرنے کے لئے دستیاب آپشنز پیش کیا جاسکے۔
وفاقی حکومت نے پاور ڈویژن سے کہا ہے کہ وہ 4,267 میگاواٹ پیدا کرنے والے 18 انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز(آئی پی پیز)کو ادائیگیاں روک دے ، کیونکہ حکومت ان کے ساتھ معاہدے کی تبدیلی پر بات چیت جاری ہے۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ ہم اگلے 8 سے 10 ماہ میں بجلی کی قیمت کو 10 روپے فی یونٹ تک لانے کے لیے کام کررہے ہیں،
وزیراعظم کی ٹاسک فورس کے آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، پہلے مرحلے میں بند کی جانے والے 5 آئی پی پیز کے نام سامنے آ گئے ہیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری نے کے الیکٹرک کی نجکاری کے عمل کی تفصیلات طلب کر لیں جبکہ دوران اجلاس حکام پاور ڈویژن نے کہا کہ کے الیکٹرک کی کپیسٹی اتنی نہیں تھی جتنا ان کو دے دیا گیا۔
حکومت نے شوگر ملز مالکان کو فائدہ پہنچانے کیلیے نیپرا کے متنازع فیصلے پر عملدرآمد کردیا۔
حکومت نے نجی آئی پی پیز اور سرکاری پاور ہاؤسز کے درمیان فرق نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات پاور سیکٹر اصلاحات کیلئے بنائی گئی ٹاسک فورس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتائی ہے جو آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
جولائی میں بجلی کی قیمت میں 51 فیصد اضافے کے باجود رواں مالی سال کے اختتام تک گردشی قرضہ 2.8 ہزار ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔
آئی پی پیز کی جانب سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے اور دھوکا دہی کے حقائق منظر عام پر آگئے جن میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بعض بجلی گھروں نے غلط معاہدوں کے باعث بغیر بجلی پیدا کیے حکومت سے اربوں روپے وصول کیے۔
یشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے تین خودمختار پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کو گزشتہ سال جنوری میں ملک بھر میں بریک ڈاؤن کے بعد نیشنل گرڈ کو بجلی کی فراہمی بحال نہ کرنے میں ناکامی پر شوکاز نوٹس جاری کرکے باقاعدہ قانونی کارروائی شروع کردی۔
حکومت کے تفتیش کاروں نے مبینہ طور پر درجنوں انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے، کیونکہ کچھ مالکان خاموش مزاحمت کررہے ہیں، جن کا ماننا ہے کہ وہ صرف معاہدوں کی پاسداری کر رہے ہیں۔
وفاقی حکومت نے سرکاری بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر ان کمپنیوں کے سی ای اوز سے نجکاری کے حوالے سے تفصیلات طلب کر لیں۔
بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے بجلی صارفین پر 47 ارب روپے کا مزید اضافی بوجھ ڈالنے کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں درخوست دائر کردی۔
ملک بھر میں قیمتوں میں بڑی کمی کے باعث سولر کے استعمال میں 50 فیصد اضافہ ریکار کیا گیا۔
یشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی(نیپرا) نے بجلی 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو پیش کی گئی رپورٹ میں کے الیکٹرک سمیت تمام بجلی تقسیم کار کمپنیاں زائد بلوں میں ملوث قرار دیا گیا ہے، نیپرا نے تمام کمپنیوں سے زائد بلنگ پر وضاحت طلب کر لی۔
بجلی کی قیمتوں میں 2 روپے 63 پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان ہے۔
حکومت اور نیپرا کی جانب سے ناکارہ آئی پی پیز پر نوازشات، سات ناکارہ آئی پی پیز کی سادہ درخواستوں پر جنریشن لائسنس میں توسیع دیدی گئی۔
وفاقی حکومت نے مختلف پاور پلانٹس کو ادائیگی کے لیے رواں مالی سال 2091 ارب روپےکی کیپسٹی پیمنٹس کا تخمینہ لگایا ہے۔
سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی ( سی پی پی اے) نے فی یونٹ بجلی کی قیمت میں 2 روپے 63 پیسے اضافے کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں درخواست دائر کردی۔
ملک میں مہنگی بجلی کی سب سے بڑی وجہ کیپسٹی چارجز ہیں جبکہ 22 سرکاری کمپنیاں کیپیسٹی چارجز کی 48 فیصد کی حصے دار ہیں۔
حکومت نے مہنگائی کے ستائے عوام کو بجلی کا نیا جھٹکا دینے کی تیاری کرلی ہے۔ بجلی کی قیمت میں 2 روپے 10 پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان ہے۔
سابق نگران وزیر تجارت گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ رواں سال کے پہلے 3 ماہ (جنوری تا مارچ) کے دوران خود مختار پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کو 450 ارب روپے کی بھاری ادائیگیاں کی گئیں۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ35 روپے فی یونٹ بجلی کی قیمت ہے جس میں ٹیکسز شامل نہیں ہیں۔