سینیٹ کمیٹی اجلاس خدشہ: ایل این جی قلت کا سامنا
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم نے حکام کی بریفنگ میں خبردار کیا کہ ملک کو آئندہ ہفتوں میں ایل این جی کی شدید قلت کا سامنا ہوسکتا ہے۔
ہیش ٹیگ
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم نے حکام کی بریفنگ میں خبردار کیا کہ ملک کو آئندہ ہفتوں میں ایل این جی کی شدید قلت کا سامنا ہوسکتا ہے۔
وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ مقامی ذرائع سے بجلی پیداوار بڑھنے سے ایل این جی سپلائی میں خلل کے اثرات محدود رہیں گے، حکومت 2034 تک توانائی میں بیرونی انحصار نمایاں کم کرنا چاہتی ہے۔
قومی الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق مالی سال 2024-25 میں ترسیل و تقسیم نقصانات اور کم وصولیوں کے باعث بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو ایک کھرب روپے سے زائد کا نقصان ہوا، جس سے گردشی قرضہ اور سروس کا معیار مزید متاثر ہوا۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سولر اور پروزیومر ریگولیشنز 2026 سے متعلق ایک نیا مسودہ جاری کر دیا ہے۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے نیٹ میٹرنگ کے موجودہ نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ پالیسی پر ازسرِنو غور کی ضرورت ہے تاکہ بجلی کے تمام صارفین کے ساتھ منصفانہ سلوک یقینی بنایا جا سکے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت ملک بھر میں نیٹ میٹرنگ کا پرانا نظام ختم کر کے نیٹ بلنگ کا نیا نظام متعارف کروا دیا گیا ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) اور پاور ڈویژن کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا،
وفاقی حکومت نے 28.5 ملین سے زائد گھریلو بجلی صارفین پر ماہانہ فکسڈ چارج 200 سے 675 روپے تک عائد کرنے کی تجویز دے دی ہے۔
ملک بھر کے بجلی صارفین کو اپریل سے جون 2026 کے دوران بجلی کے بلوں میں تقریباً 42 پیسہ فی یونٹ اضافی ادائیگی کرنا پڑ سکتی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے شمسی نیٹ میٹرنگ صارفین، یعنی پروزیومرز، کو دیے جانے والے مالی فوائد میں کمی کی تجاویز پر عوامی سماعت طلب کر لی ہے۔ یہ سماعت 6 فروری 2026 کو ہوگی، جس میں شہریوں، سرکاری اداروں، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اپنی آرا پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے سوشل میڈیا پر ایک اہم پیغام جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ صنعتوں کے بجلی بلوں میں 4 روپے 4 پیسے فی یونٹ کی کمی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
بجلی صارفین کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کہ ایک ماہ کے لیے فی یونٹ بجلی کی قیمت میں 48 پیسے کی کمی کا امکان ہے۔
پاکستان کے بجلی کے شعبے میں سرکلر ڈیٹ مالی سال 26 کی پہلی ششماہی (جولائی-دسمبر 2025) میں 75 ارب روپے بڑھ کر 1.689 ٹریلین روپے ہو گئی—یہ 4.65 فیصد اضافہ ہے جبکہ حکومت نے FY25 میں 780 ارب روپے کی کیپیٹل انجیکشن اور 1.225 ٹریلین روپے کی کم شرح پر کمرشل قرضہ کاری کی تھی۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پاور سیکٹر کی سالانہ رپورٹ ”اسٹیٹ آف انڈسٹری 2025“ جاری کر دی ہے جس میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ٹیکسز، سرچارجز اور ڈیوٹیز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں عام آدمی کے لیے ناقابل برداشت ہو چکی ہیں۔
حکومت نے اعلان کیا ہے کہ بجلی صارفین پر عائد ڈیبٹ سرچارج (قرض کی ادائیگی کا اضافی چارج) 3.23 روپے فی یونٹ جاری رہے گا، جو پانچ سے چھ سال تک برقرار رہے گا۔
پاکستان نے 36 ارب ڈالر کے توانائی شعبے کے مہنگے قرضوں کی ری فنانسنگ کے لیے ورلڈ بینک سے رابطہ کیا ہے۔ یہ قرضے ماضی میں پاور پراجیکٹس کی تنصیب کے لیے لیے گئے تھے، جن میں زیادہ تر چینی مالیاتی اداروں سے حاصل کیے گئے کمرشل قرضے شامل ہیں۔
وفاقی حکومت نے ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے بنیادی ٹیرف میں کسی تبدیلی کے بغیر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کیلنڈر سال 2026 (جنوری سے دسمبر) کے لیے قومی اوسط یونیفارم بجلی ٹیرف کو 62 پیسہ فی یونٹ کم کردیا ہے، جس سے یہ 33.38 روپے فی کلو واٹ آور ہوگیا ہے جو کہ پچھلے مالی سال 2025-26 کے 34.00 روپے فی کلو واٹ آور سے کم ہے۔
کے الیکٹرک (کے ای) اور پاور ڈویژن کے درمیان ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی (ٹی ڈی ایس) کی ادائیگیوں پر شدید اختلافات بدستور برقرار ہیں، جس نے اب توہینِ عدالت کے سنگین الزامات کی شکل اختیار کر لی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے حکومت کی ہدایات پر نیٹ میٹرنگ پالیسی میں بڑی تبدیلیوں کا مسودہ تیار کر لیا ہے جس کے تحت سولر پروسیمرز (نیٹ میٹرنگ صارفین) کی سولر سسٹم کی صلاحیت، معاہدے کی مدت اور گرڈ کو دی جانے والی اضافی بجلی کی ادائیگی کو تقریباً نصف کر دیا جائے گا۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں بجلی کے نرخوں میںسہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت اضافے کی درخواست پر سماعت مکمل کرلی گئی، جس کے بعد تین ماہ کے لیے 45 پیسے فی یونٹ اضافہ متوقع ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے اس اقدام پر شدید اعتراض اٹھایا ہے جس کے تحت انہوں نے بغیر منظوری کے چار ملین اے ایم آئی (Advanced Metering Infrastructure) میٹرز نصب کرنے کا عمل شروع کیا۔
جامشورو پاور پلانٹ اور دو ایل این جی سے چلنے والے منصوبے دوبارہ نجکاری پروگرام کا حصہ بن گئے، حکومت کا کہنا ہے کہ توانائی شعبے کی مالی مشکلات کم کرنے کے لیے یہ اقدام ناگزیر ہے۔
حکومت نے سولر نیٹ میٹرنگ صارفین سے بجلی خریداری کی موجودہ شرح میں کمی سے متعلق کوئی نیا فیصلہ نہیں کیا، اور فی الحال 22 روپے فی یونٹ کی قیمت برقرار ہے۔