کے الیکٹرک کے سی ای او مونِس علوی مستعفی
کے الیکٹرک (کے ای) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مونِس علوی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔
ہیش ٹیگ
کے الیکٹرک (کے ای) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مونِس علوی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔
پاکستان کے بجلی کے شعبے میں سرکلر ڈیٹ مالی سال 26 کی پہلی ششماہی (جولائی-دسمبر 2025) میں 75 ارب روپے بڑھ کر 1.689 ٹریلین روپے ہو گئی—یہ 4.65 فیصد اضافہ ہے جبکہ حکومت نے FY25 میں 780 ارب روپے کی کیپیٹل انجیکشن اور 1.225 ٹریلین روپے کی کم شرح پر کمرشل قرضہ کاری کی تھی۔
حکومت نے اعلان کیا ہے کہ بجلی صارفین پر عائد ڈیبٹ سرچارج (قرض کی ادائیگی کا اضافی چارج) 3.23 روپے فی یونٹ جاری رہے گا، جو پانچ سے چھ سال تک برقرار رہے گا۔
ممبر نیپرا نے اپنے اختتامی نوٹ میں تحریر کیا ہے کہ توانائی کے ماہرین اور نظامی ذرائع نےکے-الیکٹرک کے چار بجلی گھروں کی ممکنہ بندش کے منصوبے پرسخت تشویش کا اظہار
کراچی میں بارش کے بعد بجلی کا بحران شدت اختیار کرگیا، کئی علاقے 2 روز بعد بھی بجلی سے محروم ہیں۔
نیپرا نے صارفین کی شکایات پر کے الیکٹرک کوشو کاز نوٹس جاری کردیا۔۔ نیپرا نے کہا ہے کہ کے الیکٹرک جان بوجھ کر تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
سینئر صوبائی وزیر اور وزیرِ اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے لوڈ شیڈنگ کے نظام کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ شدید گرمی میں بھی کراچی سمیت سندھ کے بیشتر شہروں میں 16 ،16 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کراچی میں گھنٹوں طویل لوڈشیڈنگ کی شکایات پر نوٹس لے لیا۔
حکومت نے بجلی کے نرخوں میں 1 روپے 23 پیسے فی یونٹ تک کمی کردی۔
کے الیکٹرک کے لیے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 3.84 روپے فی یونٹ تک اضافہ کرنے پر کام کر رہی ہے
کراچی میں گرمی میں اضافہ ہوتے ہی کے الیکٹرک نے پہلے سے جاری لوڈشیڈنگ میں اضافہ اور مستثنیٰ علاقوں میں بھی بجلی بند کرنا شروع کر دی