کراچی میں شدید گرمی، لوڈشیڈنگ سے شہری پریشان
کراچی میں شدید گرمی کے باوجود اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ کئی علاقوں میں بجلی کی بندش کا دورانیہ 14 گھنٹوں سے تجاوز کر گیا ہے۔
ہیش ٹیگ
کراچی میں شدید گرمی کے باوجود اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ کئی علاقوں میں بجلی کی بندش کا دورانیہ 14 گھنٹوں سے تجاوز کر گیا ہے۔
وفاقی حکومت اور کراچی کے صنعتی و صارف حلقوں نے کے الیکٹرک کو ملٹی ایئر ٹیرف (MYT) 2017-23 کے تحت تقریباً 60 ارب روپے کے اینڈ آف ٹرم (EoT) ایڈجسٹمنٹس دینے کی مخالفت
کراچی میں شدید گرمی کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں طویل دورانیے کی بجلی لوڈشیڈنگ جاری ہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
گرمی کی شدت میں اچانک اضافے کے باعث بجلی کی طلب تیزی سے بڑھ گئی ہے جس کے نتیجے میں ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
K-Electric نے سات سالہ ٹیرف مدت کی ایڈجسٹمنٹس کی مد میں تقریباً 58 ارب 95 کروڑ روپے کی درخواست جمع کرا دی
کے الیکٹرک (کے ای) اور پاور ڈویژن کے درمیان ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی (ٹی ڈی ایس) کی ادائیگیوں پر شدید اختلافات بدستور برقرار ہیں، جس نے اب توہینِ عدالت کے سنگین الزامات کی شکل اختیار کر لی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کے-الیکٹرک کے 2024 تا 2030 کے لیے ملٹی ایئر ٹیرف (MYT) کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے ایسے ڈھانچہ جاتی نقائص درست کر دیے ہیں
ممبر نیپرا نے اپنے اختتامی نوٹ میں تحریر کیا ہے کہ توانائی کے ماہرین اور نظامی ذرائع نےکے-الیکٹرک کے چار بجلی گھروں کی ممکنہ بندش کے منصوبے پرسخت تشویش کا اظہار
کے۔الیکٹرک (KE) کے حصص کی ممکنہ فروخت کے معاملے پر سعودی کمپنی ال جمیع پاور لمیٹڈ اور ایشیا پیک گروپ کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔
کراچی کی بجلی کی تقسیم کار کمپنی کے۔ الیکٹرک کے 31 اگست 2025 تک اس کے مجموعی بقایا قرضے 272 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، جن میں 91 ارب روپے غیر ملکی اور 181 ارب روپے مقامی قرضے شامل ہیں۔
نیپرا نے کراچی کی بجلی کی تقسیم کار کمپنی کے-الیکٹرک پر جنوری 2023 کے ملک گیر بجلی بریک ڈاؤن کے دوران اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کے الزام میں 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔
کے-الیکٹرک اور سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹیڈ (سی پی پی اے-جی) کے درمیان 172.8 ارب روپے کے واجبات اور سبسڈی کے کلیمز پر پیدا ہونے والا تنازعہ دو سال گزرنے کے باوجود حل نہیں ہو سکا۔
کراچی میں بارش کے بعد 65 فیصد علاقے بجلی سے محروم ہوگئے، کے الیکٹرک کے ناقص ترسیلی نظام سے اسپتال متاثر اور گھروں میں برقی آلات جل گئے۔
کراچی میں حالیہ بارشوں کے بعد بجلی کی فراہمی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور متعدد علاقوں میں تین سے چار روز گزرنے کے باوجود بجلی بحال نہیں کی جا سکی۔
کراچی میں بارش کے بعد بجلی کا بحران شدت اختیار کرگیا، کئی علاقے 2 روز بعد بھی بجلی سے محروم ہیں۔
نیپرا نے کراچی کے لیے اپریل کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ میں بجلی 4.69 پیسے فی یونٹ سستی اور باقی ملک کے لیے مئی کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 10 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی الگ الگ درخواستوں پر سماعتیں مکمل کرنے کے بعد فیصلے محفوظ کر لیے جو بعد میں جاری کیے جائیں گے۔
سینئر صوبائی وزیر اور وزیرِ اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے لوڈ شیڈنگ کے نظام کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ شدید گرمی میں بھی کراچی سمیت سندھ کے بیشتر شہروں میں 16 ،16 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔
کراچی کے مختلف علاقوں میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر کے الیکٹرک کے خلاف عوام سراپا احتجاج ہیں، ملیر ہالٹ سے قائد آباد نیشنل ہائی وے کے ٹریک پر رات سے کیے جانے والے احتجاج کے باعث ٹریفک معطل ہے، اور ہزاروں افراد پریشان ہیں۔
پاور ڈویژن نے کے الیکٹرک اور آزاد جموں و کشمیر کو سبسڈی کی ادائیگیوں کی مد میں تقریباً 130 ارب روپے فوری طور پر تقسیم کرنے کا مطالبہ کردیا۔