مدارس رجسٹریشن بل پر ایک دو دن میں خوشخبری سنیں گے: مولانا فضل الرحمٰن
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ شہباز شریف نے وزارت قانون کو فوری ہدایت جاری کی کہ اب آئین و قانون کے مطابق آپ فوری طور پر عملی اقدامات کریں،
ہیش ٹیگ
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ شہباز شریف نے وزارت قانون کو فوری ہدایت جاری کی کہ اب آئین و قانون کے مطابق آپ فوری طور پر عملی اقدامات کریں،
جمعیت علمائے اسلام ( ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مدارس مخالفین ناکام ہوں گے، مخالفین کا موقف اصولی ،آئینی اور قانونی لحاظ سے کمزور ہے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ حکومت ایکٹ کا نوٹیفیکیشن جاری کرے، دینی مدارس سے متعلق قانون سازی کو ایوان صدر نے الجھا دیا ہے۔
حکومت اور جے یو آئی (ف) کے سربراہ فضل الرحمان کے درمیان مدارس رجسٹریشن معاملے پرڈیڈ لاک برقرار ہے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے دینی مدارس سے متعلق نئے بل کا مسودہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مقصد ریاست سے تصادم نہیں بلکہ مدارس کی رجسٹریشن ہے، اس معاملے پر علما کو علما کے مقابلے میں لایا جارہا ہے۔
سربراہ جمعیت علما اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے،
سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ کسی پارٹی پر پابندی لگانے کے حق میں نہیں ہے، جس طرح کےحالات ہیں موجودہ حکومت کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔
جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں پُرتشدد واقعات کی مذمت کرتا ہوں، پی ٹی آئی اگر رابطے میں رہے تو اُن کے لیے کردار ادا کرسکتا ہوں۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ مسلسل احتجاجی کالوں کے باعث احتجاج کی کوئی اہمیت نہیں رہتی ہے، لگتا ہے پی ٹی آئی میں مؤثر حکمت عملی بنانے والے لوگ موجود نہیں ہیں ۔
سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد دھڑا دھڑ قانون سازی کی جارہی ہے، آئینی ترمیم کی روح کی نفی کرنا قابل مذمت ہے، حکومت کو اس پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ عمران خان کی رہائی کی کوششوں میں میرا کوئی کردار نہیں ہے۔
مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان ساتھ آج ملاقات کا امکان ہے۔
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان لندن پہنچ گئے، جہاں وہ 10 روز قیام کریں گے۔
پاکستان تحریک انصاف کے وفد کی جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی جس میں حکومت کی جانب سے گزشتہ روز کی جانے والی قانون سازی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سربراہ جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم 26 ویں آئینی ترمیم کی توہین اور جمہوریت کے چہرے پر کالک ہے۔
جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملک میں ایک بار پھر نئے انتخابات کا مطالبہ کردیا۔
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما اسد قیصر سے ٹیلی فونک رابطہ کیا.
مولانا فضل الرحمٰن نے 26ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم کے متن پر جھگڑا نہیں رہا، ووٹنگ میں حصہ نہ لینا پی ٹی آئی کا حق ہے، ہم نے کالے سانپ کے دانت توڑ کر اس کا زہر نکال دیا ہے۔
26ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان ملاقات جاری ہے۔
جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ لچک کے بغیر آئینی ترمیم کے حکومتی مسودے پر اتفاق ممکن نہیں،
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم کےلیےکہا گیا کہ اتوار کو ہی کرنا ہے ورنہ پیر کو آسمان گرجائےگا۔
جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ اس پارلیمان کے پاس اتنی بڑی ترمیم کا مینڈیٹ نہیں ہے اور ان سے یہ ترمیم کرانا بذات خود ناانصافی ہے، اگر آپ آئینی ترمیم میں بنیادی حقوق کو بھی ڈبو دیتے ہیں
جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم کا ان سے پوچھیں جو لانے والے ہیں۔