ہفتہ وار مہنگائی میں 0.17 فیصد اضافہ
پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (PBS) کی تازہ رپورٹ کے مطابق ملک میں مہنگائی کی ہفتہ وار شرح میں 0.17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے
ہیش ٹیگ
پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (PBS) کی تازہ رپورٹ کے مطابق ملک میں مہنگائی کی ہفتہ وار شرح میں 0.17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے
پاکستان میں ہفتہ وار مہنگائی 1.29 فیصد بڑھ گئی، 23 اشیائے ضروریہ مہنگی جبکہ ٹماٹر، آٹا اور پیاز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
حکومت نے مہنگائی کی شرح میں معمولی کمی کا دعویٰ کیا ہے جب کہ دوسری جانب ایک ہفتے کے دوران 11 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے شرح سود 12 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت نے مہنگائی کی ہفتہ وار شرح میں کمی کا دعویٰ کیا ہے جب کہ ایک ہفتے کے دوران 14 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
ملک بھر میں ضروری اشیاء کی قیمتوں میں ہفتہ وار بنیادوں پر مسلسل تیسرے ہفتے کمی ریکارڈ کی گئی،ضروری اشیاء کی قیمتوں میں ہفتہ وار بنیادوں پر 0.39 فیصد کمی جبکہ سالانہ بنیادوں پر 1.16 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
مرغی کے گوشت کی قیمت کو پَر لگ گئے، کراچی، پشاور، راولپنڈی سمیت ملک مختلف شہروں میں مرغی کے گوشت کی قیمت 300 روپے تک کا ہوشربا اضافہ ہوگیا، کراچی میں چکن 740 سے 800 روپے فی کلو فروخت ہونے لگی۔
اگلے 3 سال کے دوران پاکستان میں مہنگائی میں کمی جبکہ معاشی شرح نمو میں بتدریج اضافے کی پیشگوئی کر دی ہے
فنانس ڈویژن نے پیش گوئی کی ہے کہ نومبر میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 5.8 سے 6.8 فیصد کے درمیان رہے گی اور یہ شرح دسمبر تک مزید کم ہو کر 5.6 سے 6.5 فیصد رہ جائے گی۔
ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 13.18 فیصد ریکارڈ کی گئی،
محکمہ ادارہ شماریات نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی شرح چار سال کی کم ترین سطح پر آگئی۔
حکومت آنے والے وقتوں میں مہنگائی کم اور معاشی ترقی میں اضافے کی پیش گوئی کر رہی ہے
ورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے بجٹ اقدامات کے باعث مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موسم سرما میں گندم کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔
وفاقی حکومت نے 3 سالہ معاشی پلان جاری کردیا اور وسط مدتی بجٹ اسٹریٹجی پیپر کے تحت معاشی اہداف مقرر کردیے گئے۔
فچ سلوشنز کمپنی بی ایم آئی کے اندازے کے مطابق ایس بی پی رواں سال یعنی 2024 کے اختتام تک اپنی بنیادی پالیسی ریٹ کو کم کرکے 16 فیصد اور 2025 کے آخر تک اسے مزید کم کرکے 14 فیصد کر دے گا۔
آئی ایم ایف نے عالمی معیشتوں کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ان کی پیداوار میں تنوع کم ہوگیا ہے، مہنگائی اور بڑھنے کا خطرہ اور سود کی شرح میں اضافے کا امکان بھی بڑھ گیا ہے۔
ملک میں ہفتہ وار مہنگائی مزید 0.11 فیصد بڑھ گئی جبکہ مہنگائی کی مجموعی سالانہ شرح 23.33 فیصد ہوگئی۔
اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 4 سال بعد کمی کا اعلان کرتے ہوئے اسے 1.5 فیصد کم کرنے کا اعلان کردیا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے شرحِ سود میں کمی کا امکان ظاہر کردیا۔
ادارۂ شماریات نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کم ہوئی ہے، جو گزشتہ 1 سال میں 38 فیصد سے 11.8 فیصد پر آ گئی۔
وزارت خزانہ نے ماہانہ اقتصادی رپورٹ جاری کردی جس میں ملک میں مہنگائی میں مزید کمی کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
ادارہ شماریات نے ملک میں مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کردی جس کے مطابق پاکستان بھر میں اپریل کے دوران مہنگائی کی شرح 17.34 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
ملک میں ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں 0.09 فیصد کی معمولی کمی ہوئی جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی مجموعی شرح 29.41 فیصد پر آگئی۔
حساس قیمت انڈیکس سے پیمائش کردہ قلیل مدتی مہنگائی کی شرح 21 مارچ کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران سالانہ بنیادوں پر معمولی کمی کے بعد 29.06 فیصد پر آگئی۔