ایف بی آر کی رواں مالی سال کیلئے سالانہ ٹیکس وصولی ہدف میں کمی
آئی ایم ایف کے معاہدے کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے رواں مالی سال 2024-25 کے لیے اپنے سالانہ ٹیکس وصولی کے ہدف کو 12970 ارب روپے سے کم کرکے 12913ارب روپے کر دیا ہے۔
ہیش ٹیگ
آئی ایم ایف کے معاہدے کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے رواں مالی سال 2024-25 کے لیے اپنے سالانہ ٹیکس وصولی کے ہدف کو 12970 ارب روپے سے کم کرکے 12913ارب روپے کر دیا ہے۔
وفاقی وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف کے تخمینوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ملکی برآمدات آئندہ تین سال میں 60 ارب ڈالرز تک پہنچانے کے دعوے کی نفی کردی۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ریٹلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے سے متعلق ٹیکس اسکیم کی منظوری دے دی۔
رواں مالی سال کا ٹیکس سے بھرپور بجٹ اور مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کے فیصلے نے توجہ سیاست سے معیشت کی جانب مبذول ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں آئی ایم ایف کے نئے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کی شرائط پوری کرنے کی ملک کی صلاحیت پر شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔
وفاقی حکومت نے 3 سالہ معاشی پلان جاری کردیا اور وسط مدتی بجٹ اسٹریٹجی پیپر کے تحت معاشی اہداف مقرر کردیے گئے۔
ملک میں رواں مالی سال 2024-25 کا وفاقی بجٹ نافذ ہونے کے بعد مسلسل تین ہفتوں سے مہنگائی کی شرح میں اضافے کا رجحان بدستور جاری ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے کہا ہے آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری سے پاکستان کی بیرونی فنانسنگ کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی جبکہ کمزور حکومت کے باعث پاکستان کے بیرونی ادائیگیوں میں مشکلات کا شکار ہونے کے بھی خدشات ہیں۔
آئی ایم ایف نے عالمی معیشتوں کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ان کی پیداوار میں تنوع کم ہوگیا ہے، مہنگائی اور بڑھنے کا خطرہ اور سود کی شرح میں اضافے کا امکان بھی بڑھ گیا ہے۔
وفاقی وزارت خزانہ نےآئی ایم ایف کے بنیادی اضافی اہداف کو پورا کرنے کے لیے فنڈز کے بیک لوڈڈ ریلیز کے ذریعے ترقیاتی اور جاری اخراجات کی وفاقی فنانسنگ روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
آئی ایم ایف سے 7 ارب ڈالر قرض کیلئے بھاری ٹیکس وصولیوں کا پلان بنا لیا گیا۔
ایف بی آر نے غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت، موٹر گاڑیوں کی خریداری اور تنخواہوں کی آمدن کے حوالے سے ود ہولڈنگ ٹیکس کی شقوں میں تبدیلی کا نوٹیفکیشن جاری
پاکستان انفارمیشن کمیشن نے وفاقی حکومت کے رائٹ ٹو ایکسیس آف انفارمیشن ایکٹ 2017ء کے تحت گورنر اسٹیٹ بنک آف پاکستان کو 1000بڑے قرض نادہندگان کی فہرست 10روز کے اندر افشاء کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔
کابینہ کمیٹی برائے توانائی (سی سی او ای) کے اجلاس میں بتایا گیا کہ مئی 2024 تک پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 2 ہزار 655 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔
آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پر عمل درآمد کر لیا گیا ، وفاقی کابینہ نے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافے کی منظوری دیدی۔
1.774 ٹریلین کے بھاری ٹیکسز کا نفاذ بھی آئی ایم ایف کومطلوبہ وصولیاں پیدا کرنے کے حوالے سے آئی ایم ایف کو قائل کرنے میں ناکام ہوگیا ہے۔
حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ مفاہمت کے مطابق بڑے پیمانے پر نقصانات (ریونیو پر مبنی) کی آڑ میں ملک بھر میں شدید گرمی میں مسلسل 6 سے 12 گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کر رہی ہے،
سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے موجودہ بجٹ کو تاریخ کا بدترین بجٹ قرار دے دیا۔
فیڈرل بورڈ آف رینیو(ایف بی آر) نے ٹیکس فراڈ انویسٹی گیشن ونگ قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ جو ٹیکس چوری کو آسانی سے پکڑے گا۔
وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2025-2024 کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب مالی سال 25-2024 کا اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں آئی ایم ای کے ساتھ اسٹینڈ بائی معاہدہ کیا تھا کیونکہ ہمارے پاس کوئی پلان بی نہیں تھا
وفاقی حکومت کی جانب سے 18 ہزار ارب روپے کے لگ بھگ حجم پر مشتمل وفاقی بجٹ بدھ کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا ،
اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 4 سال بعد کمی کا اعلان کرتے ہوئے اسے 1.5 فیصد کم کرنے کا اعلان کردیا۔
اسٹیٹ بینک آج مانیٹری پالیسی کااعلان کرےگا، ماہرین کے مطابق شرح سود میں کمی کا امکان ہے۔
آئندہ بجٹ میں 2 ہزار ارب روپے اضافی ریونیو حاصل کرنے کے لیے نئے ٹیکسز عائد کرنے کی تجویز کردیے گئے۔