اوگرا گیس ٹیرف میں اضافے پر غور
پاکستان میں گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا امکان پیدا ہو گیا ہے
ہیش ٹیگ
پاکستان میں گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا امکان پیدا ہو گیا ہے
وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات پر تمام زمرہ جات کے لیے گیس کی قیمتوں میں اگلے چھ ماہ تک کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا، جس سے صارفین کو بڑا ریلیف ملے گا۔
پیٹرولیم ڈویژن نے موسم سرما میں گیس کی طلب کو منظم کرنے کے لیے تیاریاں تیز کر دی ہیں، اور وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) اور سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) کی لوڈ مینجمنٹ حکمت عملیوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی ( اوگرا ) نے گیس کے گھریلوں صارفین کے لیے فکسڈ چارجز میں 50 فیصد اضافہ کردیا اور فکسڈ چارجز 400 سے بڑھاکر 600 روپے مقرر کردیے گئے ہیں۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے گیس کمپنیوں کے لیےگیس نرخوں میں ردوبدل کی منظوری دے دی تاہم حتمی منظوری کے لیے سمری وفاقی حکومت کو بھجوا دی گئی۔
گیس کمپنیوں نے آئندہ مالی سال کے لیے گیس کی قیمتوں میں اضافہ مانگ لیا،
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے گیس کی قیمتوں کے نوٹیفکیشن کے لیے 15 فروری 2025 تک کی ڈیڈ لائن دے دی، سرکاری گیس کمپنیوں نے 53.47 فیصد تک گیس مہنگی کرنے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔
حکومت نے قدرتی گیس کے کیپٹو صنعتی صارفین کے لیے کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی ہے جبکہ گھریلو صارفین کےلیے قیمتوں کو برقرار رکھا ہے،
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نےمالی سال 2024-25 کے لیے سوئی کمپنیوں کی آمدنی کی ضروریات کے تعین کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ۔
چیئرمین اوگرا نے کہا کہ گیس کی قیمتوں کو مرحلہ وار بڑھنا چاہیے تھا تاہم عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے گیس کی قیمتوں کا فیصلہ کریں گے۔
اگلے مالی سال 2024-25ء کے دوران گیس کا بحران مزید سنگین ہونے کا خدشجس کے باعث حکومت کو گھریلو صارفین کی ضروریات مہنگی آر ایل این جی
سوئی ناردرن گیس نے ایک ہی سال میں گیس کی قیمت میں تیسرا اضافہ مانگ لیا۔