پنجاب میں سیلاب سے 112 ہلاکتیں، 47 لاکھ متاثر
پنجاب میں دریاؤں کی طغیانی سے سیلابی ریلوں نے 47 لاکھ افراد کو متاثر کیا، 112 اموات ہوئیں، متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہیں۔
ہیش ٹیگ
پنجاب میں دریاؤں کی طغیانی سے سیلابی ریلوں نے 47 لاکھ افراد کو متاثر کیا، 112 اموات ہوئیں، متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہیں۔
بھارت کی جانب سے چھوڑا گیا سیلابی ریلا ہیڈ پنجند پہنچ گیا ہے اور اگلے دو روز میں گڈو بیراج تک پہنچنے کا امکان ہے۔
پنجاب میں دریائے چناب اور دریائے راوی میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب نے متعدد اضلاع کو متاثر کیا، ہیڈ سدھنائی کو بچانے کے لیے مائی صفوراں بند توڑ دیا گیا جبکہ ہزاروں ایکڑ فصلیں دریا بُرد ہوگئیں۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گڈو بیراج پر صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ 9 لاکھ کیوسک کا ریلا آیا تو پورا کچہ ڈوب جائے گا، لوگوں کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔
پنجاب اور بلوچستان میں دریاؤں کی بلند سطح سے شدید سیلابی صورتحال، 15 لاکھ افراد متاثر، 28 ہلاکتیں، لاکھوں کی نقل مکانی جبکہ آئندہ 48 گھنٹے انتہائی اہم قرار دیے گئے۔
پاور ڈویژن نے سیلابی صورتحال کے پیش نظر بجلی کے انفراسٹرکچر کے تحفظ اور بجلی کی فراہمی کو برقرار رکھنے کے لیے ڈسکوز اور آپریشنل ٹیموں کو فوری اقدامات کی ہدایت دی ہے۔
بھارت کی جانب سے دریائے راوی میں دو لاکھ کیوسک پانی چھوڑنے اور مسلسل مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں کئی دہائیوں کے بدترین سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔