دو ارب ڈالر رقم کی مدت میں ایک سال کی توسیع
چین نے پاکستان کے ذمے واجب الادا دو ارب ڈالر رقم کی مدت میں ایک سال کی توسیع کردی۔ وزارتِ خزانہ نے مدت میں توسیع کی تصدیق کردی ۔
ہیش ٹیگ
چین نے پاکستان کے ذمے واجب الادا دو ارب ڈالر رقم کی مدت میں ایک سال کی توسیع کردی۔ وزارتِ خزانہ نے مدت میں توسیع کی تصدیق کردی ۔
حکومت نے ملک میں مہنگائی کی شرح میں مزید کمی کا دعویٰ کردیا۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی( پی اے سی) نے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی اور سود کی واپسی کے نظام پرعدم اطمینان کا اظہار کیا ہے،
پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان جائزہ مذاکرات شروع ہوگئے، پہلے جائزہ مذاکرات 7 ارب ڈالرز کے قرض پروگرام کے تحت ہو رہے ہیں۔
وفاقی حکومت نے اگلے 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں کمی کا اعلان کردیا اور فنانس ڈویژن کی جانب سے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔
وزارت خزانہ نے عیدالفطر سے قبل ملک میں مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کردیا۔
آئی ایم ایف کا 4 رکنی وفد مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ گیا، تکنیکی مذاکرات کا آغاز آج ہی ہو گا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نےکہا ہےکہ ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے سے قومی خزانے کا بوجھ کم ہوا ہے۔
رمضان المبارک سے قبل ہفتہ وار مہنگائی میں معمولی اضافہ ہوا ہے جبکہ افراط زر کی سالانہ شرح 1.21 فیصد پر آگئی۔
ریاستی ملکیتی اداروں نے مالی سال 24-2023ء میں 13 ہزار 524 ارب روپے کی آمدن اور 820 ارب روپے کا منافع حاصل کیا جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں بالترتیب 5.2 فیصد اور 14.61 فیصد اضافی ہے۔
ریکوڈک مائننگ کمپنی نے حکومت کی جانب سے سیکیورٹی سروسز فریم ورک ایگریمنٹ ( SSFA) اور مفاہمتی یادداشت کے مطابق سہولیات فراہم نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جس سے کمپنی کو 3لاکھ 90 ہزار ڈالر کے اضافی اخراجات کرنے پڑے ہیں۔
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاکستان کی نیو ڈویلپمنٹ بینک میں شمولیت کی منظوری دے دی، پاکستان 582 ملین ڈالر کے 5,882 شیئرز خریدے گا، 116 ملین ڈالر فوری ادا کرے گا۔
حکومت نے شرحِ مہنگائی کے تازہ اعداد و شمار جاری کیے ہیں، جس کے مطابق 13 اشیا کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان کے قرضہ جات کی سطح گزشتہ مالی سال کے دوران قابل استحکام سطح سے کافی بلند رہی جو پارلیمانی قانون کی خلاف ورزی ہے.
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) توقع سے کم افراط زر کی وجہ سے جنوری میں تقریباً 85 ارب روپے کے محصولات جمع کرنے کے ہدف سے محروم رہا۔
وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ مالی سال کے پہلے 6 ماہ مہنگائی کی شرح 7.2 فیصد رہی جو کہ گزشتہ سال 28.8فیصد تھی، دسمبر 2024ء میں مہنگائی کی شرح 4.1 فیصد رہی جو 80 ماہ کی کم ترین سطح ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی صنعت و پیداوار نے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن بند کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں وزیر خزانہ کو طلب کرلیا۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے معیشت کی بحالی کیلیے شرح سود میں مسلسل چھٹی بار کمی کا امکان ہے ،مرکزی بینک پیر کو اپنی کلیدی شرح سود میں کم از کم ایک فیصد کمی کرے گا،
ملک بھر میں ضروری اشیاء کی قیمتوں میں ہفتہ وار بنیادوں پر مسلسل تیسرے ہفتے کمی ریکارڈ کی گئی،ضروری اشیاء کی قیمتوں میں ہفتہ وار بنیادوں پر 0.39 فیصد کمی جبکہ سالانہ بنیادوں پر 1.16 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
حکومت نے مسلسل دوسری بار پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا۔
وفاقی وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ایک سیاسی جماعت کے حالیہ احتجاج کی وجہ سے ملک کو 190 ارب روپے یومیہ کا نقصان ہوا ۔
ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان کی 3فیصد معاشی شرح نمو کا تخمینہ لگایاہے ، قبل ازیں اے ڈی بی نے دوران مالی سال کیلئے قومی معیشت کی ترقی کیلئے 2.8 فصد کی توقع کا اظہار کیا تھا
ملک میں ایک ہفتے کے دوران 18 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔