اقتصادی رابطہ کمیٹی کی وزارتوں کیلئےگرانٹس کی منظوری
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے وزارتوں میں تکنیکی ضمنی گرانٹ اور اسٹیل ملز ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے 93 کروڑ روپے سے زائد کی منظوری دے دی۔
ہیش ٹیگ
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے وزارتوں میں تکنیکی ضمنی گرانٹ اور اسٹیل ملز ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے 93 کروڑ روپے سے زائد کی منظوری دے دی۔
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے انکشاف کیا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) پاکستان سے ٹیکس بیس میں اضافے کا خواہاں ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومتی اخراجات کم کرنے جا رہے ہیں، ہماری کوشش ہے معیشت کو پائیدار ترقی کی جانب لیکر جائیں، ٹیکس نظام میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات دسمبر سے جاری ہیں، معاشی ترقی کے لے نجی شعبے کو کردار نبھانا ہوگا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) نہ کھلنے کی کوئی شکایت نہیں ملی، کسی بھی غیر ملکی کمپنی کو منافع باہر لے جانے کو نہیں روکا گیا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کرنسی پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات کا آغاز کرچکے ہیں، آمدنی اور کھپت کے مطابق ٹیکس کی ادائیگی یقینی بنانے کے لیے کام جاری ہے۔
ایف بی آر کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے ٹیکس قوانین ترمیمی بل پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ فعال ٹیکس گزار نہ ہونے کی صورت میں کاروبار سیل کیا جائے گا اور منقولہ جائیداد قبضے میں لی جائے گی۔
پاکستان بزنس فورم نے سال 2024 کو بزنس کمیونٹی اور عوام کے لیے مشکل ترین سال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کاروبار دوست ملک نہیں رہا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ نان فائلرز آنے والے دنوں میں مزید شکنجے میں آئیں گے۔
قتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے یوریا کھاد کی درآمد پر سبسڈی دینے کی منظوری دے دی۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ برآمدی آمدنی میں مسلسل اضافے کے باوجود انفارمیشن ٹیکنالوجی(آئی ٹی) کی کمپنیاں زرمبادلہ کی اصل رقم پاکستان نہیں لارہی ہیں۔
حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت گیس کی قیمتوں میں ریکارڈ 840 فیصد اور بجلی کے نرخوں میں 110 فیصد سے زائد اضافے جبکہ روپے کی قدر میں 43 فیصد کمی نے غیر معمولی مہنگائی میں اہم کردار ادا کیا ہے جس نے بہت سے پاکستانیوں کی قوت خرید اور معیار زندگی کو متاثر کیا ہے۔
پاکستان نے عالمی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف ) سے 7 ارب ڈالر کا قرض تقریباً 5 فیصد شرح سود پر لیا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ حکومتی ملکیتی ادارے روزانہ سوا 2 ارب روپے کا نقصان کرتے ہیں۔
وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے بائیس اسٹرکچرل بینج مارک ہیں،وفاقی حکومت نے اٹھارہ اور اسٹیٹ بینک نے چار پر عملدرآمد کرنا ہے، حکومت کسی قسم کی ٹیکس مراعات نہیں دے سکتی،
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے اپنے فیصلوں پر عمل درآمد میں تاخیر پر تشویش کا اظہار
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے پر تبادلہ خیال ہوا، آئی ایم ایف حیران ہے کہ 14 ماہ میں معیشت کیسے سنبھل گئی۔
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ٹیم جمعہ (15 نومبر) کو صوبائی حکومتوں سے قومی مالیاتی معاہدے کے بارے میں بات چیت کرے گی
سعودیہ سے 3؍ کھرب 33؍ ارب کی تیل سہولت پر IMF نے خدشات ظاہر کردیئے اور کہا کہ سعودی عرب تیل سہولت پر عملدرآمد کو ریکوڈک سے جوڑ سکتا ہے ۔
وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف کے ساتھ اعتماد اور ساکھ کے فقدان کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کا عملہ آئندہ ہفتے پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ 7 ارب ڈالر کی ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کا جائزہ لے سکے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان یورو بانڈز اس وقت لانچ کرے گا جب ہماری کریڈٹ ریٹنگ بی کیٹگری ہو جائے گی۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری(سی پیک) اپنے پہلے مرحلے میں حکومت سے حکومت کے درمیان سرمایہ کاری کے ماڈل سے دوسرے مرحلے میں کاروبار سے کاروبار روابط میں تبدیل ہو گیا ہے جہاں اس دوسرے مرحلے میں چینی سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ٹیکس کے لیے کسی کو ہراساں نہیں کیا جائے گا، نان فائلر گاڑیاں اور جائیدادیں نہیں خرید سکے گا، نان فائلر سے متعلق ہمیں قانونی کور کی ضرورت ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان بیرونی معاشی دباؤ سے نکلنے کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے تقریباً ارب ڈالرز کی مالی معاونت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان میں تنخواہ دار طبقے کی مشکلات سے آگاہ ہیں، طبقے پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ نہیں ڈال سکتے ہیں۔