آئی ایم ایف-پاکستان کے مذاکرات بغیر معاہدہ ختم
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے ساتھ اپنے دوہری جائزہ مشن کو اسٹاف لیول معاہدے (SLA) کے بغیر مکمل کر لیا ہے۔
ہیش ٹیگ
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے ساتھ اپنے دوہری جائزہ مشن کو اسٹاف لیول معاہدے (SLA) کے بغیر مکمل کر لیا ہے۔
پاکستان میں ٹیکس وصولیوں میں کمی پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے تشویش ظاہر کر دی ہے، اور اگر رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں بھی رجحان برقرار رہا تو حکومت پر نئے ہنگامی ریونیو اقدامات نافذ کرنے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے مالیاتی خسارے کو کم کرنے کے لیے کھاد پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کو دگنا کر کے 10 فیصد کرے اور زرعی ادویات، یعنی پیسٹی سائیڈز پر 5 فیصد ایف ای ڈی نافذ کرے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پاکستان کو بجٹ میں 500 ارب روپے کی مشروط ایڈجسٹمنٹ کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے تاکہ سیلاب متاثرین کی فوری بحالی ممکن بنائی جا سکے،
کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک بڑےاسمگلنگ اسکینڈل کا انکشاف ہوا ہے، جس میں کروڑوں روپے مالیت کی قیمتی الیکٹرانک اشیاء کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکسز ادا کیے بغیر غیر قانونی طور پر ایئرپورٹ سے باہر نکالی جا رہی تھیں۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس سال 2025 کے لیے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ میں 15 اکتوبر 2025 تک توسیع کر دی ہے۔
پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اسلام آباد میں پالیسی سطح کے مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ملک بھر میں ٹیکس چوری میں ملوث بااثر سونے کے تاجروں، رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز اور دیگر غیر رجسٹرڈ کاروباری عناصر کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ہے
ایف بی آر کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرضوں اور مالی معاونت کے حصول کے لیے اپنی ٹیکس بیس میں اضافے کا دباؤ ہے۔
وزیرِاعظم پاکستان کی جانب سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے متعارف کرایا گیا "فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ" (FCA) سسٹم صرف تین ماہ میں قومی خزانے کو 100 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچا چکا ہے۔
پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے ایف بی آر کے ایس آر او 1359(I)/2025 کے تحت ترامیم پر شدید تحفظات ظاہر کیے، جس سے صنعت کے مطابق ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات کو نقصان ہوگا۔
وفاقی حکومت نے ملک میں ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ریٹیل آؤٹ لیٹس اور ای کامرس کیش آن ڈیلیوری (COD) کی ادائیگیوں پر دو لاکھ روپے کی حد مقرر کر دی ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 42 اہم شعبوں/صنعتوں میں فیلڈ آڈٹ کروانے کے لیے 102 سیکٹر/آڈٹ ماہرین کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کاروباری افراد کے لیے سخت قوانین تیار کر لیے جب کہ سیلز ٹیکس رجسٹرڈ افراد کے لیے ایف بی آر کمپیوٹرائزڈ سسٹم سے منسلک ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے احتجاجی تاجروں کے مطالبات تسلیم کر لیے اور کاروباری برادری کو مطمئن کرنے کے لیے نئی ہدایات جاری کی ہیں جن کے مطابق بڑی خریداریوں پر مرحلہ وار پابندی عائد کی جائے گی،
پاکستان نے امریکا کے ساتھ تجارتی ڈیل کی راہ میں ایک اور رکاوٹ دور کرتے ہوئے ڈیجٹیل اشیا اور خدمات فراہم کرنے والے آن لائن پلیٹ فارمز پر عائد 5 فیصد ٹیکس ختم کر دیا ،
ُُپی اے سی نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے چینی کی درآمد کیلئے جی ایس ٹی کی شرح کم کرنے اور شوگرمل مالکان کی تفصیلات آئندہ ہفتہ طلب کرلیں
آج اسلام آباد میں ملک کی بزنس کمیونٹی، چیمبرز آف کامرس اور تاجروں کی تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ وزیر خزانہ و و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا
گذشتہ مالی سال25-2024 کا ٹیکس وصولیوں کا دوسری مرتبہ مقرر کردہ نظرثانی شدہ ہدف حاصل کرنے میں بھی ناکام ہوگیا ہے۔
ایف آئی اے کی امیگریشن ڈیٹا کے مطابق، دبئی/متحدہ عرب امارات میں 20 لاکھ اماراتی درہم یا اس سے زائد کی جائیداد میں سرمایہ کاری کرنے والے پاکستانی رہائشیوں کی شناخت کر لی گئی ہے، اور ان کے خلاف انکم ٹیکس قوانین اور اینٹی منی لانڈرنگ ضوابط کے تحت بڑا کریک ڈاؤن جاری ہے۔
حکومت نے مالیاتی بل کے تحت ایف بی آر میں رجسٹرڈ نہ ہونے والوں کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے بینک اکائونٹ آپریٹ کرنے پر پابندی اور بجلی و گیس کے کنکشنز کاٹنے کا فیصلہ کیا
چیئرمین ایف بی آر نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ سے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری ایف بی آر کی منظوری سے مشروط ہوگی
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس فراڈ میں ملوث افراد کے لیے 10 سال قید کی سزا کی تجویز مسترد کردی گئی