پیٹرول 1.63 روپے، ڈیزل 1.55 روپے مہنگا
وفاقی حکومت نے نظرثانی شدہ پیٹرولیم قیمتوں کے طریقہ کار کے تحت 29 جولائی سے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
ہیش ٹیگ
وفاقی حکومت نے نظرثانی شدہ پیٹرولیم قیمتوں کے طریقہ کار کے تحت 29 جولائی سے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے وفاقی حکومت کے نظرثانی شدہ پیٹرولیم قیمتوں کے طریقہ کار کے تحت 28 جولائی سے پیٹرول ایک روپے فی لیٹر سستا جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 3.37 روپے فی لیٹر مہنگا کرنے کا اعلان کر دیا۔
وفاقی حکومت نے اوگرا کی سفارشات پر نظرثانی شدہ پیٹرولیم قیمتوں کا اعلان کرتے ہوئے 24 جولائی 2026 سے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق آج (22 جولائی) سے ہوگا۔
یکم جولائی کے نظرثانی شدہ پٹرولیم قیمتوں کے طریقہ کار کے تحت پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا، جن کا اطلاق 21 جولائی 2026 سے ہوگا۔
وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے 18 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت میں 13 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔
پاکستان میں مہنگائی کا دباؤ برقرار ہے، جہاں ہفتہ وار بنیاد پر قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی
حکومت 3.44 کھرب روپے سے زائد کے گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کے باوجود یکم جولائی 2026 سے نافذ ہونے والے نئے گیس ٹیرف کا نوٹیفکیشن جاری کرنے میں ناکام رہی
پاکستان میں 2 جولائی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اشاریے (SPI) میں 0.98 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ٹماٹر، پیاز، آٹے اور انڈوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
پاکستان کا تجارتی خسارہ مالی سال 2025-26 کے دوران بڑھ کر 39.47 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 21.57 فیصد زیادہ ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس
پاکستان ادارہ شماریات (پی بی ایس) نے جون 2026 کے مہنگائی کے اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کی بنیاد پر سالانہ مہنگائی کی شرح 11.1 فیصد رہی، جو مئی 2026 میں ریکارڈ کیے گئے 11.7 فیصد کے مقابلے میں معمولی کم ہے، تاہم گزشتہ سال جون میں یہ شرح صرف 3.2 فیصد تھی۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2025-26 کے لیے نظرثانی کے بعد مقرر کردہ 12 ہزار 957 ارب روپے کا ٹیکس وصولی ہدف حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے
ملکی معیشت کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، اوسط مہنگائی سنگل ڈیجٹ پر آگئی جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ بھی سرپلس میں تبدیل ہوگیا۔
وفاقی حکومت نے آئندہ پندرہ روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔