نیپرا میں 2 روپے 52 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست
ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں مزید اضافے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
ہیش ٹیگ
ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں مزید اضافے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
National Electric Power Regulatory Authority نے مارچ کے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 27 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست پر سماعت مکمل کر لی،
ملک بھر کے لیے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 64 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی، سماعت 31 مارچ کو ہوگی۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں بجلی کے نرخوں میںسہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت اضافے کی درخواست پر سماعت مکمل کرلی گئی، جس کے بعد تین ماہ کے لیے 45 پیسے فی یونٹ اضافہ متوقع ہے۔
سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے نیپرا کو ستمبر 2025ء کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (FCA) کی مد میں ایک درخواست جمع کرائی ہے، جس میں ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی 37 پیسے فی یونٹ تک سستی کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
پاکستان بھر کے بجلی صارفین کو آئندہ ماہ اپنے بلوں میں 19 پیسے فی یونٹ تک اضافی ادائیگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اگست 2025 کے لیے فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (FCA) کے تحت بجلی مہنگی کرنے کی درخواست پر عوامی سماعت مکمل کر لی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں اضافے کی درخواست پر کل باقاعدہ سماعت کا اعلان کیا ہے۔
کے-الیکٹرک اور سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹیڈ (سی پی پی اے-جی) کے درمیان 172.8 ارب روپے کے واجبات اور سبسڈی کے کلیمز پر پیدا ہونے والا تنازعہ دو سال گزرنے کے باوجود حل نہیں ہو سکا۔
معاہدوں پر نظر ثانی کیلئے حکومت کی 29 انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ بات چیت مکمل ہوگئی ہے اور آئندہ ہفتوں میں مزید آئی پی پیز کے ساتھ بھی معاہدے ہونے کا امکان ہے۔
پانچ خود مختار پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد، انرجی ٹاسک فورس نے آٹھ بیگاس سے چلنے والے آئی پی پیز کے ساتھ بھی ترمیم شدہ معاہدے کیے ہیں
حکومت آئی پی پیز کے اعلیٰ حکام کو اگلے ہفتے طلب کرنا شروع کر دے گی تاکہ ان کے پلانٹس کو ’ٹیک یا پے‘ سے ’ٹیک اینڈ پے‘ موڈ میں تبدیل کرنے کے لئے دستیاب آپشنز پیش کیا جاسکے۔
حکومت نے نجی آئی پی پیز اور سرکاری پاور ہاؤسز کے درمیان فرق نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات پاور سیکٹر اصلاحات کیلئے بنائی گئی ٹاسک فورس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتائی ہے جو آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
جولائی میں بجلی کی قیمت میں 51 فیصد اضافے کے باجود رواں مالی سال کے اختتام تک گردشی قرضہ 2.8 ہزار ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔
بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے بجلی صارفین پر 47 ارب روپے کا مزید اضافی بوجھ ڈالنے کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں درخوست دائر کردی۔
بجلی کی قیمتوں میں 2 روپے 63 پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان ہے۔
وزارت انرجی میں ایمرجنسی پلان پر کام کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
حکومت اور نیپرا کی جانب سے ناکارہ آئی پی پیز پر نوازشات، سات ناکارہ آئی پی پیز کی سادہ درخواستوں پر جنریشن لائسنس میں توسیع دیدی گئی۔
وفاقی حکومت نے مختلف پاور پلانٹس کو ادائیگی کے لیے رواں مالی سال 2091 ارب روپےکی کیپسٹی پیمنٹس کا تخمینہ لگایا ہے۔
سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی ( سی پی پی اے) نے فی یونٹ بجلی کی قیمت میں 2 روپے 63 پیسے اضافے کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں درخواست دائر کردی۔