27 ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور
قومی اسمبلی نے 27ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کرلی، ترمیم کے حق میں 234 جبکہ مخالفت میں صرف چار ووٹ پڑے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔
ہیش ٹیگ
قومی اسمبلی نے 27ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کرلی، ترمیم کے حق میں 234 جبکہ مخالفت میں صرف چار ووٹ پڑے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔
قومی اسمبلی آج 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے سکتی ہے، جس کے بعد وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے لیے عملی اقدامات شروع ہونے کا امکان ہے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27ویں آئینی ترمیم کا بل 2025 قومی اسمبلی میں پیش کردیا، جسے حکومت ایک روز قبل سینیٹ سے کامیابی کے ساتھ منظور کرواچکی ہے، جبکہ آج قومی اسمبلی سے بھی اس اہم آئینی ترمیم کی منظوری کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
وفاقی حکومت نے 27ویں آئینی ترمیمی بل آج سینیٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سینیٹ کا اجلاس آج صبح 11 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کیا گیا ہے، جس کا 45 نکاتی ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے۔
سینیٹ میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے حوالے سے سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔ وزیراعظم نے آئینی ترمیم کے بل پر اتحادیوں کو اعتماد میں لینے اور پارلیمانی حکمتِ عملی کو حتمی شکل دینے کے لیے حکومتی اور اتحادی جماعتوں کے سینیٹرز کو آج عشائیے پر مدعو کر لیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے حکمران اتحاد کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کے اجلاس کے بعد وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس آج طلب کرلیا۔
وفاقی کابینہ کا آج ہونے والا اجلاس، جس میں آئین میں مجوزہ 27ویں ترمیم پر مشاورت کی جانی تھی، ملتوی کردیا گیا ہے۔ اجلاس کے انعقاد کا نیا شیڈول بعد میں طے کیا جائے گا۔
وفاقی حکومت نے ستائیسویں آئینی ترمیم کو باضابطہ طور پر سینیٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کل (جمعہ) سینیٹ کے اجلاس میں ترمیمی مسودہ پیش کریں گے
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئیر رہنما اور وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی و قومی امور رانا ثناء اللہ نے ممکنہ 27 ویں آئینی ترمیم کی تفصیلات بیان کردی ہیں۔