فلم مینگو جٹ کی پروڈیوسر حریم فاروق نے ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ انہوں نے تقریباً دس سال کی مشق کے بعد خود کو تنقید پر ردعمل نہ دینے کے لیے تیار کر لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ اپنی زندگی اس بات پر لگا دیں کہ کس نے کیا کہا، تو وہ کام ہی نہیں کر پائیں گی۔ انٹرویو میں فلم کے سیٹ کی یادوں اور 16 اکتوبر کی ریلیز کا بھی ذکر ہوا۔

تنقید پر ردعمل: ٹی وی مباحث سے سوشل میڈیا تک

انٹرویو کا آغاز فلمی صنعت میں جاری ایک بڑے تنازع سے ہوا، یعنی وہ لوگ جو ٹی وی اور ڈسکشن پروگراموں میں بیٹھ کر فلموں پر تبصرے کرتے ہیں۔ میزبان نے پوچھا کہ جب کوئی اداکار اچھا کام کر کے آئے اور اسے داد ملے، اور پھر اس کے اپنے جاننے والے، جن کے ساتھ وہ کام کر چکا ہو، اسی کام کو بکواس کہہ دیں، تو کیا غصہ نہیں آتا؟

مینگو جٹ کی پروڈیوسر انٹرویو کے دوران تنقید پر ردعمل اور ٹرولز کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے

اس پر حریم فاروق کا جواب تھا کہ انہوں نے خود کو تنقید پر ردعمل نہ دینے کی تربیت دے رکھی ہے۔ ان کے مطابق اگر فلمی ناقدین نہیں بولیں گے تو سوشل میڈیا کے ٹرولز بولیں گے، اور وہ نہیں بولیں گے تو کوئی اور بولے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہ اپنی پوسٹس کے نیچے کمنٹس دیکھتی ہیں اور نہ کسی اور کی پوسٹس کے۔ ان کے بقول باتیں ان تک پہنچتی ضرور ہوں گی، مگر وہ انہیں زیادہ اہمیت نہیں دیتیں۔

ہر ایک کو رائے کا حق: تنقید پر ردعمل کی پالیسی

حریم فاروق نے کہا کہ ہر شخص کو اپنی رائے رکھنے کا حق ہے اور کسی کی رائے اس کے اپنے بارے میں زیادہ بتاتی ہے، دوسرے شخص کے بارے میں کم۔ ان کے مطابق یہ ڈیجیٹل دنیا ہے جہاں ہر کسی کے ہاتھ میں کی بورڈ ہے اور ہر کوئی اپنی آواز سنانا چاہتا ہے۔ کوئی اسے منفی چیزوں کے لیے استعمال کرے یا مثبت اور تعمیری باتوں کے لیے، یہ اس کا اپنا انتخاب ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ دوسروں کے انتخاب سے مسئلہ نہیں رکھتیں اور اپنے لیے وہی چنیں گی جو انہیں مناسب لگے۔

سیٹ سے کیا ساتھ لے گئے؟

فلم کی شوٹنگ مکمل ہونے کے بعد میزبان نے پوچھا کہ سیٹ سے کیا ساتھ لے کر گئے۔ ایک مہمان نے بتایا کہ ان کے پاس اپنی چین، انگوٹھی اور ایک دو چیزیں ہیں جو انہیں وبیق نے بنا کر دی تھیں اور جنہیں انہوں نے سنبھال رکھا ہے۔ مینگو جٹ کے کپڑے منیب نے بنائے تھے، وہ انہوں نے واپس لے لیے۔ ان کا کہنا تھا کہ باقی یادیں ہیں جو ہمیشہ ساتھ رہیں گی۔

دوسری مہمان نے ہنستے ہوئے کہا کہ ان کے پاس بہت کچھ ہے اور دفتر میں بہت سی چیزیں پڑی ہیں۔ ان کے مطابق وہ بہت سی سیکھ، اسباق، یادیں، دوستیاں، نئے رشتے اور نئے خواب ساتھ لے کر گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مینگو جٹ ہمیشہ ان کے دل کے بہت قریب رہے گی۔ ایک اور مہمان نے فلم کے انتظار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ساتھی اداکارہ کو پنجابی بولتے، رقص کرتے اور ایکشن کرتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

تجزیہ: تنقید پر ردعمل نہ دینا کتنا عملی ہے؟

انٹرویو کا نکتہ یہ ہے کہ فلمی شخصیات سوشل میڈیا کی رائے کو ذاتی طور پر نہ لینے کی کوشش کر رہی ہیں۔ تاہم یہ بیان ایک ایسی فلم کی پروموشن کے دوران آیا ہے جو ریلیز سے پہلے یا اس کے قریب ہے، اور ایسے موقع پر تنقید سے لاتعلقی کا اظہار ایک پروموشنل حکمتِ عملی بھی ہو سکتی ہے۔ فلم کا اصل فیصلہ باکس آفس اور ناظرین کی رائے کرے گی، جس میں ناقدین اور سوشل میڈیا صارفین کی آرا بھی شامل ہوں گی۔ تنقید پر ردعمل نہ دینا ایک ذاتی اصول ہو سکتا ہے، لیکن عوامی منصوبے کے طور پر فلم کو ناظرین کی رائے کا سامنا بہرحال کرنا ہی ہوتا ہے۔