پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کا امکان
ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا امکان ظاہر ہو گیا ہے۔
ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا امکان ظاہر ہو گیا ہے۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پیٹرولیم کنسیشنز (ڈی جی پی سی) نے تین ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیوں کے خلاف پٹرولیم قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں پر ریگولیٹری کارروائی شروع کر دی ہے۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے نیٹ میٹرنگ کے موجودہ نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ پالیسی پر ازسرِنو غور کی ضرورت ہے تاکہ بجلی کے تمام صارفین کے ساتھ منصفانہ سلوک یقینی بنایا جا سکے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت ملک بھر میں نیٹ میٹرنگ کا پرانا نظام ختم کر کے نیٹ بلنگ کا نیا نظام متعارف کروا دیا گیا ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) اور پاور ڈویژن کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا،
وفاقی وزارت خزانہ کی تازہ ترین دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ شہریوں پر پیٹرولیم لیوی کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے
وفاقی حکومت نے 28.5 ملین سے زائد گھریلو بجلی صارفین پر ماہانہ فکسڈ چارج 200 سے 675 روپے تک عائد کرنے کی تجویز دے دی ہے۔
کے الیکٹرک (کے ای) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مونِس علوی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔
ملک بھر کے بجلی صارفین کو اپریل سے جون 2026 کے دوران بجلی کے بلوں میں تقریباً 42 پیسہ فی یونٹ اضافی ادائیگی کرنا پڑ سکتی ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے لیکویفائیڈ پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق فروری 2026 کے لیے ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 6 روپے 37 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے شمسی نیٹ میٹرنگ صارفین، یعنی پروزیومرز، کو دیے جانے والے مالی فوائد میں کمی کی تجاویز پر عوامی سماعت طلب کر لی ہے۔ یہ سماعت 6 فروری 2026 کو ہوگی، جس میں شہریوں، سرکاری اداروں، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اپنی آرا پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے سوشل میڈیا پر ایک اہم پیغام جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ صنعتوں کے بجلی بلوں میں 4 روپے 4 پیسے فی یونٹ کی کمی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
بجلی صارفین کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کہ ایک ماہ کے لیے فی یونٹ بجلی کی قیمت میں 48 پیسے کی کمی کا امکان ہے۔
ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یکم فروری 2026 سے نمایاں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پاکستان اور چین نے معدنیات کے شعبے میں اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط کرتے ہوئے آج جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد میں پاک–چین معدنی تعاون فورم کا کامیاب انعقاد کیا۔
پاکستان کے بجلی کے شعبے میں سرکلر ڈیٹ مالی سال 26 کی پہلی ششماہی (جولائی-دسمبر 2025) میں 75 ارب روپے بڑھ کر 1.689 ٹریلین روپے ہو گئی—یہ 4.65 فیصد اضافہ ہے جبکہ حکومت نے FY25 میں 780 ارب روپے کی کیپیٹل انجیکشن اور 1.225 ٹریلین روپے کی کم شرح پر کمرشل قرضہ کاری کی تھی۔
پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی لمیٹڈ (پی ایس او) نے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کی تقرری کے لیے باضابطہ طور پر درخواستیں طلب کر لی ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنی میں یہ اعلیٰ سطح کی تقرری ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب توانائی کا شعبہ مالی دباؤ، ریگولیٹری چیلنجز اور بدلتے ہوئے عالمی توانائی رجحانات سے گزر رہا ہے۔
وفاقی حکومت نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے نئے چیئرمین کی تعیناتی کا باضابطہ عمل شروع کر دیا ہے۔
وفاقی وزیر پاور و توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے نیپرا کی حالیہ رپورٹ کو ناقص، تاخیر کا شکار اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ نے پاور سیکٹر کی اصل صورتحال پیش نہیں کی اور اس سے غیر ضروری غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پاور سیکٹر کی سالانہ رپورٹ ”اسٹیٹ آف انڈسٹری 2025“ جاری کر دی ہے جس میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ٹیکسز، سرچارجز اور ڈیوٹیز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں عام آدمی کے لیے ناقابل برداشت ہو چکی ہیں۔
وفاقی حکومت نے لیوی میں اضافہ کر کے عوام کو پیٹرولیم مصنوعات پر ملنے والے ممکنہ ریلیف سے محروم کر دیا۔ پیٹرول پر فی لیٹر 4 روپے 65 پیسے کا ریلیف چھین لیا گیا جبکہ ڈیزل پر بھی لیوی میں 80 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا۔
حکومت نے اعلان کیا ہے کہ بجلی صارفین پر عائد ڈیبٹ سرچارج (قرض کی ادائیگی کا اضافی چارج) 3.23 روپے فی یونٹ جاری رہے گا، جو پانچ سے چھ سال تک برقرار رہے گا۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے باعث پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر کمی کا امکان ہے۔