رواں مالی سال کے پہلے7 ماہ میں تجارتی خسارہ بڑھ گیا
رواں مالی سال کے پہلے7 ماہ (جولائی 2024 تا جنوری 2025) کے دوران برآمدات، درآمدات اور تجارتی خسارے میں اضافہ ہو گیا۔
رواں مالی سال کے پہلے7 ماہ (جولائی 2024 تا جنوری 2025) کے دوران برآمدات، درآمدات اور تجارتی خسارے میں اضافہ ہو گیا۔
وفاقی حکومت نے وزیراعظم کے رمضان پیکیج کو ملک بھر کے مستحق افراد میں نقد کی صورت میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ساتھ مل کر عملدرآمد کیا جائے گا۔
حکومت نے رئیل اسٹیٹ اور ہاؤسنگ کے شعبے میں عوام کے لیے مراعات کا پیکیج تیار کرلیا۔
وفاقی حکومت نے پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) کی زمین پر دو مرحلوں میں خصوصی اقتصادی زون (ایس ای زیڈ) کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) توقع سے کم افراط زر کی وجہ سے جنوری میں تقریباً 85 ارب روپے کے محصولات جمع کرنے کے ہدف سے محروم رہا۔
ایف بی آر نے اساتذہ اور ریسرچرز کو 100 فیصد انکم ٹیکس ادا کرنے کے نوٹس بھیجنا شروع کر دیے، دوسری جانب حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف سے ٹیچرز اور ریسرچرز کے لیے انکم ٹیکس میں 25 فیصد چھوٹ دینے کی اجازت بھی مانگی گئی ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو( ایف بی آر) میں گریڈ 17 سے 20 کے 15 افسران کےبڑے پیمانے پر تبادلے کر دیئے گئے ہیں۔
یورپی یونین کے خصوصی نمائندے برائے انسانی حقوق اولوف سکوگ نے پاکستان کا ایک ہفتہ طویل دورہ کیا، جس کے دوران انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سمیت اعلیٰ حکومتی، عسکری اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔
وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ مالی سال کے پہلے 6 ماہ مہنگائی کی شرح 7.2 فیصد رہی جو کہ گزشتہ سال 28.8فیصد تھی، دسمبر 2024ء میں مہنگائی کی شرح 4.1 فیصد رہی جو 80 ماہ کی کم ترین سطح ہے۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے دعوی کیا ہے کہ گاڑیوں کی خریداری کا معاملہ اٹھانے پر ایف بی آر افسران نے انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی ہیں
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی صنعت و پیداوار نے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن بند کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں وزیر خزانہ کو طلب کرلیا۔
امریکی سرمایہ کاروں کے وفد کے سربراہ جینٹری بیج نے کہا ہے کہ امریکا پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے جب کہ امریکی عوام کو پاکستان کی حقیقی تصویر نہیں دکھائی گئی، گزشتہ 4 سال میں بائیڈن انتظامیہ نے جو کیا وہ مناسب نہیں تھا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو رواں ماہ(جنوری)میں 50 ارب روپے سے زائد ریونیوشارٹ فال کا امکان ہے
چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑال نے کہا ہے کہ ٹیکس قوانین ترمیمی بل سے صرف ڈھائی فیصد افراد متاثر ہوں گے ، پراپرٹی سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو ذرائع آمدن بتانا ہوں گے.
وفاقی حکومت نے حکومتی اخراجات میں کمی کیلیے رائٹ سائزنگ پالیسی کے تحت وزارت ریلوے میں سے رائٹ سائزنگ پالیسی کے تحت 17 ہزار 101 پوسٹیں ختم کردی ہیں۔
اسٹیٹ بینک نئے سال کی پہلی مانیٹری پالیسی کا اعلان آج کرے گا۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے معیشت کی بحالی کیلیے شرح سود میں مسلسل چھٹی بار کمی کا امکان ہے ،مرکزی بینک پیر کو اپنی کلیدی شرح سود میں کم از کم ایک فیصد کمی کرے گا،
چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے افسران کے لیے گاڑیوں کی خریداری پر اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان افسران کے لیے کاریں خریدی جائیں گی۔
عالمی بینک کے جنوبی ایشیا کے لیے نائب صدر مارٹن ریزر نے کہا ہے کہ پاکستان 2035 تک ایک ہزار ارب ڈالر کی معیشت بننے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے، تاہم اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو سالانہ 7 فیصد کی شرح نمو سے ترقی کرنا لازمی ہوگا۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے صنعتوں کے لیے گیس کی قیمت میں اضافے کی منظوری دے دی۔
اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہ اور مراعات وفاقی سیکریٹری کے برابر کرنے کے معاملے پر فنانس کمیٹی نے ایم این ایز اور سینیٹرز کی تنخواہ و مراعات میں اضافے کی منظوری دے دی۔
ایف بی آر نے حکومت سے ایف بی آر کی افرادی قوت کو 60 فیصد کم کرنے کے فیصلے میں نرمی کرنے کی درخواست کرتے ہوئے 1,730 خالی ملازمتیں برقرار رکھنے کی اپیل کردی۔
حکومت نے مہنگائی کی ہفتہ وار شرح میں کمی کا دعویٰ کیا ہے جب کہ ایک ہفتے کے دوران 14 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
حکومت نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی سیکیورٹی کلیئرنس مسترد کرنا شروع کردی ہے۔