ٹیکس ریٹرن کی تعداد میں 100 فیصد اضافہ
یکس ریٹرن کی تعداد میں سالانہ بنیادوں پر 16 لاکھ 69 ہزار سے زیادہ اضافہ ہوگیا۔
ہیش ٹیگ
یکس ریٹرن کی تعداد میں سالانہ بنیادوں پر 16 لاکھ 69 ہزار سے زیادہ اضافہ ہوگیا۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنے ریاستی ترقیاتی ماڈل سے ”دور ہونا“ چاہیے اور کاروباری ماحول کو مستحکم کرنا چاہیے۔
کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرنے میں ٹیکس دھندگان کو درپیش مشکلات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ انکم تیکس گوشوارے جمع کرانے کے لیے ایک ماہ کی توسیع کی جائے۔
وفاقی ریونیو بورڈ (ایف بی آر) نے نان فائلرز کے خلاف یکم اکتوبر سے کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا ایگزیکٹو بورڈ بدھ کے روز(آج) پاکستان کیلئے 37 ماہ کے توسیعی فنڈ سہولت انتظامات (ای ایف ایف) پر غور کریگا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے نان فائلرز کی کیٹیگری ختم کرکے ٹیکس نہ دینے والوں پر15پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے جن میں سے 5 ابتدائی طور پر لگائی جائیں گی
کیا پاکستان کا ٹیکس سسٹم مالیاتی دہشتگردی ہے؟ ٹیکس کا غیرمنصفانہ نظام سارا بوجھ غریبوں پر منتقل کر رہا ہے،
ایف بی آر نے چھ بڑی کارروائیوں کا منصوبہ بنالیا، مینوفیکچررز، ہول سیلرز/ڈسٹری بیوٹرز اور ریٹیلرز کیلئے 10 لاکھ روپے کا نیا جرمانہ عائد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
وفاقی حکومت نے ٹیکس مقدمات اور تنازعات کے حل کیلیے مقدمات تیزی سے نمٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس ہدف پورا کرنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
ملک بھر میں 3.1 ملین خوردہ فروشوں میں سے ٹیکس سال 2023 کے دوران صرف 2 لاکھ 70 ہزار ریٹرن فائلرز ہیں جن کا قومی خزانے میں 34 ارب روپے کا ٹیکس حصہ ہے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ آج چترال سے کراچی تک کامیاب ہڑتال ہو گی۔
تاجروں سے چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال کے مذاکرات ناکام ہوگئے۔
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے 4 ستمبر تک ہونے والے اپنے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے ایجنڈے میں ابھی تک پاکستان کو شامل نہیں کیا ہے۔
ایف بی آر نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ میں30 ستمبر تک توسیع کا اعلان کر دیا ہے۔
وفاقی حکومت نے ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے مرتب کردہ پانچ سالہ ریونیو جنریشن پلان آئی ایم ایف کو فراہم کردیا ہے
تمام صوبائی حکومتیں بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری میں ملوث پائی گئی ہیں اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے مطابق حالیہ چند برسوں کے دوران صوبوں نے وفاقی ٹیکسوں میں سے 33؍ ارب روپے منہا کرکے وفاقی سرکاری خزانے میں نہیں بھیجے۔
وفاقی حکومت نے پاکستان سے خلیجی ممالک جانے والے محنت کشوں پر ٹیکس عائد کر دیا۔
ایف بی آر اور ایف آئی اے کی جانب سے ایک دوسرے کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرنے کی وجہ سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور اب یہ معاملہ قانونی مقدمہ بازی تک جا پہنچا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کی بہتری کیلئے اقدامات کررہے ہیں اور کوشش رہے ہیں کہ نچلے طبقے پر ٹیکس کا بوجھ نہ ڈالا جائے۔
آئی ایم ایف کے معاہدے کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے رواں مالی سال 2024-25 کے لیے اپنے سالانہ ٹیکس وصولی کے ہدف کو 12970 ارب روپے سے کم کرکے 12913ارب روپے کر دیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ریٹلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے سے متعلق ٹیکس اسکیم کی منظوری دے دی۔
رواں مالی سال کا ٹیکس سے بھرپور بجٹ اور مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کے فیصلے نے توجہ سیاست سے معیشت کی جانب مبذول ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں آئی ایم ایف کے نئے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کی شرائط پوری کرنے کی ملک کی صلاحیت پر شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔
ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کا کہنا ہے کہ پاکستان کو سود کی ادائیگی کے لیے مالی محصولات کا 62 فیصد درکار ہوگا جو 23-2022 میں 41 فیصد تھا۔