9 ماہ کیلئے مقرر کردہ ٹیکس ہدف حاصل
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نےرواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں مقرر کردہ ٹیکس ہدف حاصل کرلیا۔
ہیش ٹیگ
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نےرواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں مقرر کردہ ٹیکس ہدف حاصل کرلیا۔
حکومت آئندہ بجٹ 2024-25 میں کاربن ٹیکس لگانے پر غور کر رہی ہے تاکہ معدنی تیل کی طلب کی روک تھام کی جاسکے
عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے حکومت سے جدید ترین ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے مکمل اطلاق کا مطالبہ کردیا۔
ملک میں ٹیکس وصولی میں بہت بڑا فرق سامنے آیا ہے جس کا تخمینہ 58 کھرب روپے ہے جو کہ جی ڈی پی کا 6.9 فیصد بنتا ہے، اس میں صرف پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کا فرق تقریباً 10کھرب روپے ہے۔
سلام آباد کی ہاؤسنگ سوسائٹیز اور فارم ہاؤسز پر پراپرٹی ٹیکس عائد کردیا گیا۔
حکومت نے نجی اسکولوں، کالجوں، بڑے اسپتالوں ،جم اور کلبوں کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سافٹ ویئر سسٹم سے منسلک کرنا لازمی قرار
آئی ایم ایف کے مطالبے پر راولپنڈی اور اسلام آباد سمیت ملک کے 6 بڑے شہروں میںیکم اپریل سے تاجروں کے اندراج کا آغاز
آئی ایم ایف نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ پٹرول پر لیوی 60 روپے کرلیں، اور پٹرول پر مارچ 2022 میں ختم کیا گیا 18فیصد جی ایس ٹی بھی بحال کریں۔
ایف بی آر نے ود ہولڈنگ ٹیکس چوری روکنے کیلیے نیا نظام ’سویپ پیمنٹ رسید سسٹم‘ متعارف کروادیا۔
ملک کے 35 لاکھ تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے اسکیم کے خدوخال تیار کرلیے گئے۔
آئی ایم ایف نے پاکستان میں صارفین کےکیساتھ ٹرانزکشن کرنے والے آن لائن ڈیجیٹل پلیٹ فارمزکو سیلز ٹیکس نیٹ میں لانے کی سفارش کر دی،
سپریم کورٹ نے سپر ٹیکس کی وصولی سے متعلق حکم امتناع جاری کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کردیا، یہ شق فنانس ایکٹ 2023 میں ترمیم کے تحت تھی۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ آخری جائزہ مذاکرات کی کامیابی کا اعلامیہ جاری کردیا جس کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے
بین الاقوامی معاشی فنڈ (IMF) نے تجویز دی ہے کہ لگژری اشیاء پر وفاقی ایکسائز ڈیوٹی کی شرح کو بڑھا یا جائے ،
فنانس بل کے ذریعے 9 لاکھ دکانداروں کو فکس ٹیکس میں لانے کی پلا ننگ کر لی گئی،
وزیر اعظم شہباز شریف نے ایف بی آر اصلاحات کیلئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں ایک عملدرآمد کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
ملکی درپیش مسائل اور چیلنجز میں ایک بڑا چیلنج مراعات یافتہ طبقے سے ٹیکسوں کی وصولیاں ہیں جس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان دوسرے اقتصادی جائزہ مذاکرات مکمل نہ ہونے کے باعث اسٹاف سطح کا معاہدہ طے نہیں ہوسکا تاہم اہم نکات طے پاگئے ہیں۔