پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے
آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ آخری جائزہ مذاکرات کی کامیابی کا اعلامیہ جاری کردیا جس کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے
آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ آخری جائزہ مذاکرات کی کامیابی کا اعلامیہ جاری کردیا جس کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے
بین الاقوامی معاشی فنڈ (IMF) نے تجویز دی ہے کہ لگژری اشیاء پر وفاقی ایکسائز ڈیوٹی کی شرح کو بڑھا یا جائے ،
فنانس بل کے ذریعے 9 لاکھ دکانداروں کو فکس ٹیکس میں لانے کی پلا ننگ کر لی گئی،
وزیر اعظم شہباز شریف نے ایف بی آر اصلاحات کیلئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں ایک عملدرآمد کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
ملکی درپیش مسائل اور چیلنجز میں ایک بڑا چیلنج مراعات یافتہ طبقے سے ٹیکسوں کی وصولیاں ہیں جس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔
آئی ایم ایف کے وفد اور پاکستانی حکام کے درمیان اقتصادی اور مالیاتی پالیسیوں کی یادداشت کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات مکمل ہوگئے۔
بجلی کی قیمت میں 4 روپے 99 پیسے فی یونٹ مزید اضافے کی درخواست جمع کرادی گئی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی زری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے پالیسی ریٹ (شرح سود) کو مسلسل چھٹی بار 22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان دوسرے اقتصادی جائزہ مذاکرات مکمل نہ ہونے کے باعث اسٹاف سطح کا معاہدہ طے نہیں ہوسکا تاہم اہم نکات طے پاگئے ہیں۔
آئی ایم ایف کیپٹل گینز ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنے کا مطالبہ، کرپٹو کرنسیوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے،
انڈس موٹرز کمپنی نے اپنی مشہور زمانہ گاڑی ’ یارس ‘ کا ایک ویرینٹ بند کرنے کا اعلان کر دیاہے ۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آج مذاکرات کا آخری روز ہوگا، معاشی اور مالیاتی پالیسیوں کی یادداشت کے مسودے کو حتمی شکل دی جائے گی۔
ذرائع وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ آخری جائزے کے لیے تمام اہم شرائط پوری کرلی ہیں۔
سوئی سدرن گیس کمپنی نے یکم جولائی 2024 سے گیس کی قیمتوں میں 324 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافے کے لیے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) سے درخواست کردی ہے جس سے صارفین پر 79 ارب 63 کروڑ کا بوجھ پڑے گا۔
حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو نجکاری پروگرام پر کام تیز کرنے کی یقین دہانی کروادی ہے۔
پاکستان آئندہ ماہ IMF سے نئے بیل آؤٹ پیکیج کی باضابطہ درخواست کریگا،
حکومت اقتصادی وزارتوں کی کارکردگی بہتر بنانے اور ان کے مابین بہتر رابطہ کاری کےلیے ایک اداراہ جاتی میکنزم قائم کرنے اور وزیراعظم ہائوس کو آئی ایم ایف پروگرام کے نفاذ کی مانیٹرنگ کا کام بھی سونپنے پر غور ہورہا ہے۔
پاکستان نےبین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی یقین دہانی کروائی ہے جس کے تحت نان فائلرز پر پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں اضافہ کیا جائے گا۔
حکومت اور عالمی مالیاتی ادارے( آئی ایم ایف) کے درمیان دوسرے اقتصادی جائزے پر مذاکرات تیسرے روز بھی جاری ہیں۔
وفاقی حکومت کی جانب سے ماضی کے مقابلے زیادہ حکومتی اخراجات کی وجہ سے رواں مالی سال کے پہلے 8 مہینوں کے دوران ملکی قرضوں میں 59 فیصد اضافہ ہوگیا۔
امریکا میں تحریک انصاف کی جانب سے واشنگٹن میں عالمی مالیاتی فنڈ اور ورلڈ بینک کے دفاتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
مالی اعدادوشمار پر پاکستانی مذاکرات کاروں اور آئی ایم ایف کے مابین اختلاف ابھر آیا ہے لیکن حکومت نے تاحال موجودہ مالی سال کے باقی ماندہ عرصے کے دوران کسی ضمنی بجٹ کے ذریعے کوئی اضافی ٹیکس لگانے میں تذبذب کا مظاہرہ کیا ہے ۔
سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں توانائی اور پانی کی فراہمی کے 2 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی، جن کی کُل تخمینہ لاگت 7 ارب 87 کروڑ روپے ہے۔